LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی

Web Desk

2 November 2025

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرے گا۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے منسلک نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ “حکومت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جوہری تعمیر نو کی حمایت کرتی ہے”، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سے تمام تعاون ختم کر دیا ہے، جس کے باعث تباہی یا تعمیر نو سے متعلق کوئی بیرونی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ صدر پزشکیان نے یہ بیان ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے دورے کے موقع پر دیا جہاں انہوں نے ملک کی جوہری صنعت کے سینیئر منتظمین سے ملاقات کی۔
اس موقع پر ایرانی صدر نے کہا کہ ”عمارتوں اور فیکٹریوں کی تباہی ہمارے لیے مسئلہ نہیں، ہم انہیں زیادہ قوت کے ساتھ۔ دوبارہ تعمیر کریں گے”، صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ “ایران جوہری ہتھیاروں کا پروگرام نہیں چلا رہا بلکہ جوہری توانائی کو سول مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، اس حوالے سے مغربی الزامات مکمل جھوٹ ہیں اور یہ ایران کی سائنسی ترقی کو روکنے کی کوشش ہے”۔ایران کے رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ جوہری ہتھیار بنانا مذہبی طور پر ممنوع ہے، تاہم مغرب میں خدشات موجود ہیں کہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو استعمال کر کے جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، جون میں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو خود کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 12 روزہ جنگ چھیڑی تھی، جس میں امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ ایران نے شدید نقصان کی تصدیق کی تھی۔