LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

منجمد اثاثوں کی بحالی ایران امریکہ مذاکرات میں اہم اور فیصلہ کن نکتہ قرار

Web Desk

1 July 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں مفاہمتی یادداشت کے تحت منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کو انتہائی اہم اور فیصلہ کن نکتہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تہران سے عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے لیے اپنے منجمد اثاثوں کا اجرا معاشی اور سیاسی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہی وہ بنیادی شرط ہے جس پر دونوں ممالک کے درمیان آگے کی بات چیت اور سفارتی پیشرفت کا انحصار ہے۔

ایرانی حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مذاکرات میں کسی بھی قسم کی ٹھوس پیشرفت کے لیے منجمد رقوم کی بحالی بنیادی شرط کی حیثیت رکھتی ہے، اور اس بات کا باقاعدہ ذکر دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے آرٹیکل 11 میں بھی موجود ہے۔

اس سلسلے میں ایرانی صدر نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے قطر میں موجود کل 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر کی بحالی پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین طویل عرصے سے جاری ان مذاکرات میں مالیاتی اثاثوں کی بحالی ایک مرکزی تنازع بنی ہوئی تھی، تاہم اب اس تعطل کا خاتمہ مستقبل میں بڑی پیشرفت کی کلید ثابت ہو سکتا ہے۔