LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایکسائز بلوچستان کی بڑی کارروائی، 74 ارب کی منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا این ڈی ایم اے کا آئندہ 72 گھنٹوں کے لیے ملک گیر الرٹ: بالائی علاقوں میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خدشہ افغان سرحد کی بندش اور خلیجی تنازع سے 3 ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہوئی: وزیر تجارت جام کمال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کا اعادہ، صوبوں کو فوری فراہمی کی ہدایت عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ دے دیا پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا اجلاس: جون 2027 تک پٹرول ڈی ریگولیٹ کرنے اور نئے طریقہ کار کی سفارشات پر اتفاق سانحہ 9 مئی کیسز: ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی مومنہ اقبال و ثاقب چڈھر کیس: نئے ڈیجیٹل شواہد پر دوبارہ نوٹس جاری، ازسرنو تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات نہ ہو سکی وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی

Web Desk

31 January 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات انصاف اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور دھمکیوں کے سائے میں بات چیت ممکن نہیں۔

ترکیہ کے شہر استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مگر دباؤ اور دھمکیوں کے تحت مذاکرات قبول نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان فی الحال کسی ملاقات کا کوئی شیڈول طے نہیں ہوا، تاہم ایران برابری اور منصفانہ بنیادوں پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے ترکیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے، مگر اب حالات پہلے سے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ایران زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث صورتحال دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کا واحد پائیدار حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے یورپی اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپی ممالک پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں تو ایران بھی یورپی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں سمجھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ اپریل 2019 میں ایسا قانون منظور کر چکی ہے جس کے تحت پاسدارانِ انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، اور یورپی یونین ایران کے ان قوانین سے بخوبی آگاہ ہے۔