LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی

Web Desk

31 January 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات انصاف اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور دھمکیوں کے سائے میں بات چیت ممکن نہیں۔

ترکیہ کے شہر استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مگر دباؤ اور دھمکیوں کے تحت مذاکرات قبول نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان فی الحال کسی ملاقات کا کوئی شیڈول طے نہیں ہوا، تاہم ایران برابری اور منصفانہ بنیادوں پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے ترکیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے، مگر اب حالات پہلے سے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں ایران زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث صورتحال دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کا واحد پائیدار حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے یورپی اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپی ممالک پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں تو ایران بھی یورپی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں سمجھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ اپریل 2019 میں ایسا قانون منظور کر چکی ہے جس کے تحت پاسدارانِ انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، اور یورپی یونین ایران کے ان قوانین سے بخوبی آگاہ ہے۔