LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ابوظہبی میں امریکا اور یوکرین کیساتھ مذاکرات سے قبل پوتن کی سلامتی کونسل سے اہم مشاورت گادی آئزن کوٹ نئے وزیراعظم بننے کی پوزیشن میں آگئے، 67 ارکان کی حمایت حاصل علامہ اقبال کا یومِ پیدائش، روسی طلبہ کا اردو کلام اقبال پیش کر کے خراجِ عقیدت ڈیجیٹل تفریح کی دنیا میں اہم پیشرفت، رائل ریپچی 26 دسمبر کو دبئی سے متعارف ہوگا پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ سکولز کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کر دی عظمیٰ بخاری نے ستھرا پنجاب منصوبے کے ہیروز کی ویڈیو شیئر کر دی ایران میں امریکی ممکنہ حملے کے پیش نظر ہنگامی تیاریوں کا آغاز: برطانوی اخبار کا دعویٰ پولیس وردی میں ملبوس افراد اور سی سی ڈی کے درمیان مبینہ مقابلہ، تمام ملزمان گرفتار کم عمر بچیوں کو آن لائن بلیک میل کرنے والے 2 ملزم گرفتار بلاول بھٹو کی گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری ورلڈ کلچر فیسٹیول: امریکی موسیقاروں کی میوزک اور پولش آرٹسٹ کی فائن آرٹس ورکشاپ پاکستان میں دو دہائیوں بعد تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیاں بحال ہونے کی تیاری پنجاب پولیس میں ایڈیشنل آئی جی رینک کے 3 افسروں کے دوبارہ تقرر و تبادلے خیبرپختونخوا کے عوام پی ٹی آئی نہیں ریاست کے ساتھ ہیں: امیر مقام

ایران میں امریکی ممکنہ حملے کے پیش نظر ہنگامی تیاریوں کا آغاز: برطانوی اخبار کا دعویٰ

Web Desk

7 November 2026

برطانوی اخبار ‘دی ٹائمز’ نے اپنی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ممکنہ عسکری حملے کے شدید خدشات کے پیشِ نظر ایران میں ہنگامی سطح کی تیاریاں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکام نے ممکنہ امریکی حملے کے نتیجے میں جوہری تابکاری کے خطرناک اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ملک بھر میں آئیوڈین (Iodine) کی گولیاں تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تہران حکومت کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے شہریوں کو باقاعدہ تربیتی اور تحفاطی تدابیر سے آراستہ کر رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایران کے جوہری مراکزی اور بالخصوص ‘پکس ایکس’ پہاڑ کے اندر قائم حساس جوہری تنصیبات پر حملے کے شدید خدشات موجود ہیں، جس کے باعث پورے خطے میں تناؤ اور جوہری خطرات کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔