LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں

ہم پر جنگ بندی کے خطرات منڈلا رہے جنہیں سنجیدگی سے لے رہے ہیں: سربراہ ایرانی ایٹمی تنظیم

Web Desk

2 February 2026

سربراہ ایرانی ایٹمی تنظیم محمد اسلامی نے کہا ہے کہ ایران کو جنگ بندی سے متعلق ممکنہ خطرات کا سامنا ہے جنہیں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، تاہم دفاعی مقاصد کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے درکار تمام صلاحیتیں رکھتا ہے اور ایٹمی ہتھیار اس کی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی قیادت میں امریکی بحری بیڑا خطے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران فوجی تصادم سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کو امریکی تجاویز پر جواب دینے کے لیے غیر اعلانیہ ڈیڈ لائن بھی دی گئی ہے۔ ایرانی صدر اس سے قبل مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ ایران جنگ نہیں چاہتا۔