امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی
Web Desk
9 June 2026
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے واشنگٹن کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو امریکا کی نیت پر بالکل اعتماد نہیں ہے اور اگر امریکی انتظامیہ کا یہی معاندانہ رویہ برقرار رہا تو دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد مکمل طور پر ناممکن ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی اور تفصیلی انٹرویو میں ابراہیم عزیزی نے موجودہ سفارتی پوزیشن کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ امریکی صدر کی باتوں کو دیانت داری پر مبنی نہیں سمجھتے۔ ایران مذاکرات کو سفارتی میز پر جاری جنگ کا ہی ایک حصہ سمجھتا ہے، تاہم اگر امریکا اور امریکی صدر کی جانب سے واقعی کوئی سنجیدگی دکھائی دی اور انہوں نے مذاکرات کے بنیادی بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کی تو ایران کو بات چیت پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ابراہیم عزیزی نے مذاکرات کی راہ میں حائل سب سے بڑی مروجہ رکاوٹوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا واشنگٹن کی طرف سے کوئی ایسا سنجیدہ ارادہ یا عملی مینوئل گائیڈ لائن نظر نہیں آتی جس کے تحت کوئی قابلِ عمل فریم ورک تشکیل پا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے غیر قانونی طور پر منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کا معاملہ امریکی عدم سنجیدگی کی ایک واضح اور نمایاں ترین مثال ہے۔
جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے ایرانی پوزیشن کو دوٹوک الفاظ میں سامنے رکھتے ہوئے چیئرمین قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا تھا”اس وقت یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) اور جوہری معاملات پر کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی موجودہ مرحلے پر ان مسائل کو بحث کا حصہ بنانا مقصود ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا مستقبل مکمل طور پر دوسری طرف کے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔ اگر امریکا کا یہی پرانا رویہ جاری رہا تو ہماری طرف سے جواب صرف نفی میں ہوگا کیونکہ ہمیں ان پر رتی برابر اعتماد نہیں ہے۔”
انٹرویو کے مینوئل اختتام پر ابراہیم عزیزی نے ایران کی طے کردہ پیشگی شرائط کو دہرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے قومی مفادات، اقتصادی معاملات کی بحالی اور بالخصوص لبنان کے مسئلے پر کوئی عملی پیش رفت نظر آئی، تب ہی سفارتی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے انتباہی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان شرائط کو تسلیم نہ کیا گیا تو ایران اپنے مزاحمتی محاذ (Axis of Resistance)، اس کے اتحادی ارکان اور بالخصوص لبنان کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور خطے میں اپنی تزویراتی پالیسیوں کو مروجہ طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا
متعلقہ عنوانات
کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر مسافروں کے لیے چیئر لفٹ، کیبل کار اور زپ لائن لگانے کا فیصلہ
9 June 2026
شہباز شریف ہتکِ عزت کیس: عمران خان کی نظرثانی درخواست پر فیصلہ 11 جون کو ہوگا
9 June 2026
فیفا ورلڈ کپ 2026 : نیویارک میں پاکستان کی اسپورٹس انڈسٹری کی تشہیری مہم
9 June 2026
لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز غیر تسلی بخش قرار، آئی سی سی نے ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ جاری کر دیا
9 June 2026
گلگت بلتستان الیکشن: 15 نشستیں جیت چکے ، عوام کا فیصلہ مانا جائے، بیرسٹر گوہر
9 June 2026
گلگت بلتستان میں عوامی مینڈیٹ چھینا گیا، معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے: اسد قیصر
9 June 2026
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات
9 June 2026
اطالوی سفیر کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے الوداعی ملاقات
9 June 2026