LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر خیبر پختونخوا کے مزید 32 سرکاری ہسپتال نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کے خلاف مقدمہ جون 2028 میں شروع ہوگا پنجاب کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے اطراف فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب کا حکم پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

امریکی صدر کی سنجیدگی نظر آئی تو مذاکرات پر اعتراض نہیں: ابراہیم عزیزی

Web Desk

9 June 2026

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے واشنگٹن کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو امریکا کی نیت پر بالکل اعتماد نہیں ہے اور اگر امریکی انتظامیہ کا یہی معاندانہ رویہ برقرار رہا تو دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد مکمل طور پر ناممکن ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی اور تفصیلی انٹرویو میں ابراہیم عزیزی نے موجودہ سفارتی پوزیشن کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ امریکی صدر کی باتوں کو دیانت داری پر مبنی نہیں سمجھتے۔ ایران مذاکرات کو سفارتی میز پر جاری جنگ کا ہی ایک حصہ سمجھتا ہے، تاہم اگر امریکا اور امریکی صدر کی جانب سے واقعی کوئی سنجیدگی دکھائی دی اور انہوں نے مذاکرات کے بنیادی بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کی تو ایران کو بات چیت پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

ابراہیم عزیزی نے مذاکرات کی راہ میں حائل سب سے بڑی مروجہ رکاوٹوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا واشنگٹن کی طرف سے کوئی ایسا سنجیدہ ارادہ یا عملی مینوئل گائیڈ لائن نظر نہیں آتی جس کے تحت کوئی قابلِ عمل فریم ورک تشکیل پا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے غیر قانونی طور پر منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کا معاملہ امریکی عدم سنجیدگی کی ایک واضح اور نمایاں ترین مثال ہے۔

جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے ایرانی پوزیشن کو دوٹوک الفاظ میں سامنے رکھتے ہوئے چیئرمین قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا تھا”اس وقت یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) اور جوہری معاملات پر کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی موجودہ مرحلے پر ان مسائل کو بحث کا حصہ بنانا مقصود ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا مستقبل مکمل طور پر دوسری طرف کے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔ اگر امریکا کا یہی پرانا رویہ جاری رہا تو ہماری طرف سے جواب صرف نفی میں ہوگا کیونکہ ہمیں ان پر رتی برابر اعتماد نہیں ہے۔”

انٹرویو کے مینوئل اختتام پر ابراہیم عزیزی نے ایران کی طے کردہ پیشگی شرائط کو دہرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے قومی مفادات، اقتصادی معاملات کی بحالی اور بالخصوص لبنان کے مسئلے پر کوئی عملی پیش رفت نظر آئی، تب ہی سفارتی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے انتباہی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان شرائط کو تسلیم نہ کیا گیا تو ایران اپنے مزاحمتی محاذ (Axis of Resistance)، اس کے اتحادی ارکان اور بالخصوص لبنان کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور خطے میں اپنی تزویراتی پالیسیوں کو مروجہ طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا