LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو تباہی کے دہانے پر قرار دیدیا کیف میں دو یوکرینی سکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ، 3 انٹیلی جنس اہلکار زخمی امریکا چاہتا ہے مڈٹرم الیکشن تک جنگ جاری رہے: برطانوی میڈیا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک امریکا نے کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، امریکی نائب صدر نائب وزیراعظم سے افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو سانحہ پمز: وفاقی پولیس کی انکوائری رپورٹ مکمل، آئی جی اسلام آباد کو جمع آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی، ابراہیم عزیزی امریکی معیشت کیلئے تاریک مہینے آنے والے ہیں، ایرانی نائب صدر ایرانی قیادت اس وقت کمزور ترین حالت میں ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد

جنگ کا ساتواں روز: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا تل ابیب پر کلسٹر بموں سے لیس ‘خیبر شکن’ میزائل حملہ

Web Desk

6 March 2026

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے ساتویں روز ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب پر حملہ کردیا، روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک ساتھ درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کے اہداف کیا تھے اور کتنا جانی یا مالی نقصان پہنچایا گیا، تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو عین اس وقت نیچے کرکے سڑک دکھائی جانے لگی جب تل ابیب کی فضاوں میں ایرانی میزائلوں کے داخل ہونے کی آوازیں گرجنا شروع ہوئیں۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اسرائیلی ڈرونز طیارے مار گرائے ہیں۔ایرانی فوج کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک پانچ سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فائر کیے گئے ہیں، میزائلوں میں سے تقریباً ساٹھ فیصد امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے جبکہ چالیس فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے داغے گئے۔حملے کےوقت تل ابیب میں سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔ ترجمان پاسداران انقلاب جنرل علی محمد کا کہنا ہے کہ جلد ایسے اسٹریٹجک ہتھیار سامنے لائیں گے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے ، دشمن تکلیف دہ وار کیلیے تیار رہے، ابھی ہتھیاروں کا معمولی حصہ استعمال کیا ہے۔