LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم سے ملاقات، شہباز شریف کا خلیج میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کویت نے آئل ٹینکر پر حملے کے خلاف ایرانی سفیر کو طلب کرلیا نیویارک میں پاکستانی قونصلیٹ کی تارکینِ وطن کے لیے جعل سازوں کے حوالے سے الرٹ جاری بحری ناکہ بندی کے دوران 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، ایک ناکارہ بنا دیا: سینٹ کام قطر کا حملوں سے نقصانات کے ازالے کیلئے ایران سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ ایران کا خطے میں امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں، ریڈار سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ امریکی صدر ٹرمپ نے نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی برازیل اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ : نیا محاذ کھل گیا نئے برطانوی وزیراعظم نے بھی امریکا کو ایران کیخلاف حملوں کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنےکی اجازت دیدی بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کا طاقت سے جواب دیا جائے گا: ترکی المالکی وزیر خارجہ اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے لیے فلپائن روانہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا متحدہ عرب امارات کی بحرین، کویت اور اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت سعودی کابینہ کا خطے میں فوجی کشیدگی فوری ختم کرنے کا مطالبہ مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج، راہول اور پریانکا گاندھی گرفتار

جنگ کا ساتواں روز: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا تل ابیب پر کلسٹر بموں سے لیس ‘خیبر شکن’ میزائل حملہ

Web Desk

6 March 2026

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے ساتویں روز ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب پر حملہ کردیا، روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک ساتھ درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کے اہداف کیا تھے اور کتنا جانی یا مالی نقصان پہنچایا گیا، تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو عین اس وقت نیچے کرکے سڑک دکھائی جانے لگی جب تل ابیب کی فضاوں میں ایرانی میزائلوں کے داخل ہونے کی آوازیں گرجنا شروع ہوئیں۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اسرائیلی ڈرونز طیارے مار گرائے ہیں۔ایرانی فوج کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک پانچ سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فائر کیے گئے ہیں، میزائلوں میں سے تقریباً ساٹھ فیصد امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے جبکہ چالیس فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے داغے گئے۔حملے کےوقت تل ابیب میں سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔ ترجمان پاسداران انقلاب جنرل علی محمد کا کہنا ہے کہ جلد ایسے اسٹریٹجک ہتھیار سامنے لائیں گے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے ، دشمن تکلیف دہ وار کیلیے تیار رہے، ابھی ہتھیاروں کا معمولی حصہ استعمال کیا ہے۔