LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

ایران وزیر خارجہ کا برطانیہ، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے رابطہ

Web Desk

8 June 2026

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ مروجہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستان، برطانیہ اور ترکیہ سمیت دنیا کے اہم ممالک کے اعلیٰ ترین حکام سے ہنگامی ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹیلیگرام’ پر جاری کردہ اپنے ایک آفیشل بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سفارتی رابطوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی پاکستان کے مروجہ عسکری مینوئل کے اعلیٰ ترین عہدیدار سے اہم بات چیت ہوئی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کے مینوئل بیان کے مطابق، سفارتی محاذ پر درج ذیل اہم پیش رفت ہوئی ہے

عباس عراقچی نے بتایا کہ ان کی پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، جنہوں نے ماضی میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی اور مینوئل ثالثی کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کی تازہ ترین سکیورٹی پوزیشن کے حوالے سے برطانیہ اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی فون پر گفتگو کی اور انہیں تہران کے تحفظات سے آگاہ کیا۔سفارتی رابطوں کے پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہیہ اعلیٰ سطح کے مروجہ رابطے ایک ایسے نازک وقت پر ہوئے ہیں جب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں طے پانے والی جنگ بندی کی بار بار اور اعلانیہ خلاف ورزیاں کی گئیں، جس کے مینوئل جواب میں ایران کو دفاعی کارروائی کرنا پڑی۔مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کے مینوئل کو برقرار رکھنے کے لیے ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سفارتی مشن کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے یورپی اور عرب ممالک تک رسائی حاصل کی:عباس عراقچی نے قطری اور فرانسیسی ہم منصبوں سے بھی الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے لبنان کے محاذ پر اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر ایران کا باقاعدہ اور واضع مؤقف پیش کیا۔ ان تمام رابطوں کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور ممکنہ علاقائی پیش رفت کو روکنے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔