LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین پر جوابی حملے زیادہ تکلیف دہ اور تباہ کن ہیں، صدر پوتن تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ نے نظرثانی اپیل کی جلد سماعت کی درخواست دائر کر دی جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا، ایرانی وزارت دفاع ایرانی بسیج کمانڈر حسین طائب کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ دمشق کے جنوب میں اسرائیلی ڈرون حملہ، شامی حکومت کی شدید مذمت یوکرین کے ڈرون حملے، روس کے زیر انتظام علاقوں میں 10 افراد ہلاک وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان ریلویز کا مزید دو ٹرینیں بحال کرنے کا اعلان خطے میں امن کیلئے مقامی اور آزاد علاقائی سکیورٹی نظام ناگزیر ہے: ایرانی سپیکر پوتن کا آئندہ پارلیمانی انتخابات پر اعتماد، ملک کے استحکام اور سیاسی نظام کی پختگی کا اظہار مغرب یوکرینیوں کی لاشیں استعمال کرکے روس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے: سرگئی لاوروف پیپلز پارٹی کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی: وزیراعظم آزاد کشمیر کابینہ کمیٹی اجلاس: ڈسکوز فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری بھارتی آبی دہشت گردی، دریائے چناب کا پانی روک لیا گیا بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: عابد شیر علی

پنجاب میں 80 لاکھ بچیاں سکول نہیں جا رہیں: حافظ نعیم الرحمان کا دعویٰ

Web Desk

22 August 2026

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی تعلیمی و معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبے میں تقریباً 80 لاکھ بچیاں اسکول جانے سے محروم ہیں، جبکہ حکومت نے ہزاروں اسکولوں کو آؤٹ سورس کر کے بنیادی تعلیم کا حق بھی چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی شرح خواندگی بمشکل 70 فیصد ہے اور خواتین و مردوں کی ایک بڑی تعداد بنیادی تعلیمی حقوق سے محروم رکھی گئی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے صحت اور روزگار کے شعبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بننے والی طالبات کو ہاؤس جاب میں پورا حق نہیں مل رہا اور بنیادی مراکز صحت سے ذمہ داری ختم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے 8.5 کروڑ مزدوروں میں 3 کروڑ خواتین شامل ہیں، لیکن پنجاب کی 4 کروڑ خواتین کے لیے کم از کم اجرت تک طے نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ برسوں میں پنجاب میں غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 40 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔