LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنوری 2026 میں ایف بی آر کی ریونیو وصولیوں میں نمایاں تیزی، آمدن میں 16 فیصد اضافہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے 9 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا قائدِ کشمیر و صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقال کر گئے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے، شہر کے ساتھ مذاق نہیں ہونا چاہیے،گورنر سندھ ایرانی آرمی چیف نے امریکا اور اسرائیل کو حملے سے خبردار کر دیا دوسرا ٹی20: پاکستان کا آسٹریلیا کو جیت کے لیے 199 رنز کا ہدف حکومت ایکسپورٹ اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے: احسن اقبال صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشت گردی ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین وزیرِ اعظم نے پنجاب ایگری کلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا قیام کردیا صدر پاکستان آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا سکیورٹی فورسز کا فتنہ الہندوستان کے حملوں کے جواب میں آپریشن، 58 دہشتگرد ہلاک پاکستان اسٹاک ایکسچینج: ہفتہ وار کاروبار میں شدید مندی، 100 انڈیکس 4,992 پوائنٹس گھٹ گیا سندھ طاس معاہدے میں پاکستان کی بھارت کے خلاف اہم کامیابی بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ میں بصارت کی کمی، پمز اسپتال میں طبی معائنہ اور علاج مکمل ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی

اہرام مصر کی تعمیر کا صدیوں پرانا راز جدید تحقیق سے بے نقاب

Web Desk

31 January 2026

مصر کے عظیم اہرام صدیوں سے انسانی ذہن کو حیران کر رہے ہیں، خاص طور پر یہ سوال کہ لاکھوں ٹن وزنی پتھروں کو بغیر جدید مشینری کے کیسے اوپر پہنچایا گیا۔ حالیہ تحقیق نے اس راز کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع تحقیق کے مطابق ہرم کی تعمیر میں طویل بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال نہیں ہوا، بلکہ ہرم کے اندر ایک پیچیدہ اور منظم مکینیکل نظام موجود تھا۔ اس نظام میں مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر، اور چرخی نما آلات شامل تھے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوان کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس نظام کی مدد سے 60 ٹن تک وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت سے اوپر پہنچائے جا سکتے تھے۔

نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج کے ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کے مطابق ہرم کے اندر موجود چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جو ماضی میں حفاظتی مقصد کے لیے بنایا گیا سمجھا جاتا تھا، دراصل تعمیراتی نظام کا مرکزی حصہ تھا۔ کمرے کے فرش پر موجود خراشیں اور بے قاعدگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں ایک ستون نصب کیا گیا تھا، جسے تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہٹا دیا گیا۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً 20 برس میں مکمل ہوئی، اور اس دوران اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا رہا، جو بیرونی ڈھلوان کے نظریے سے ممکن نہیں تھا۔ اگر یہ تحقیق درست ثابت ہوتی ہے تو قدیم مصر کی انجینئرنگ مہارت کے بارے میں دنیا کو اپنے تصورات پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات