اہرام مصر کی تعمیر کا صدیوں پرانا راز جدید تحقیق سے بے نقاب
Web Desk
31 January 2026
مصر کے عظیم اہرام صدیوں سے انسانی ذہن کو حیران کر رہے ہیں، خاص طور پر یہ سوال کہ لاکھوں ٹن وزنی پتھروں کو بغیر جدید مشینری کے کیسے اوپر پہنچایا گیا۔ حالیہ تحقیق نے اس راز کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔
سائنسی جریدے نیچر میں شائع تحقیق کے مطابق ہرم کی تعمیر میں طویل بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال نہیں ہوا، بلکہ ہرم کے اندر ایک پیچیدہ اور منظم مکینیکل نظام موجود تھا۔ اس نظام میں مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر، اور چرخی نما آلات شامل تھے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوان کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس نظام کی مدد سے 60 ٹن تک وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت سے اوپر پہنچائے جا سکتے تھے۔
نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج کے ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کے مطابق ہرم کے اندر موجود چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جو ماضی میں حفاظتی مقصد کے لیے بنایا گیا سمجھا جاتا تھا، دراصل تعمیراتی نظام کا مرکزی حصہ تھا۔ کمرے کے فرش پر موجود خراشیں اور بے قاعدگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں ایک ستون نصب کیا گیا تھا، جسے تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہٹا دیا گیا۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً 20 برس میں مکمل ہوئی، اور اس دوران اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا رہا، جو بیرونی ڈھلوان کے نظریے سے ممکن نہیں تھا۔ اگر یہ تحقیق درست ثابت ہوتی ہے تو قدیم مصر کی انجینئرنگ مہارت کے بارے میں دنیا کو اپنے تصورات پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔