LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مختصر اور شدید حملوں کا منصوبہ تیار ایران کا جوہری پروگرام پر ثالثوں کی تجاویز کا جائزہ، قطر کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں: نیویارک ٹائمز پیٹ ہیگستھ کا مواخذے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے اور عہدے پر برقرار رہنے کے عزم برطانیہ کے 2 بڑے ہوائی اڈوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں، یورپ بھر میں 12 پروازوں کا رخ موڑ دیاگیا پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونےکے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں کمی کا اعلان بجلی صارفین پر 23 ارب 33 کروڑ روپےکا اضافی بوجھ ڈالنےکی تیاری، نیپرا میں درخواست دائر ڈیموکریٹک پارٹی کا صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا احتساب، اختیارات محدود کرنے کا اعلان جے ڈی وینس کا ایران جنگ ختم کرنے اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ یورپ کی 25 پروازوں کو بموں سے اڑانے کی دھمکی، متعدد کی ہنگامی لینڈنگ ظہران ممدانی کا ڈیموکریٹس سے انتخابی کامیابی عوامی ریلیف میں بدلنے کا مطالبہ امریکا میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں، درجنوں رہنماؤں کا میدان میں آنے کا امکان ایران نے سعودیہ اور یمن کے حوثیوں کے جاری تنازع میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کر دیئے آبنائے ہرمز میں مزید تین آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع کراچی آنے والی نجی ایئرلائن کی پرواز دوران لینڈنگ بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ تعطل کا شکار

اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ تعطل کا شکار

Web Desk

6 November 2026

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والا سیاسی تعطل اب حتمی نتیجے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو سنگین سیاسی دھچکا لگا ہے اور ان کے اہم حریف، سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ (Gadi Eisenkot) کو حکومت سازی کے لیے پارلیمانی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ کی جانے والی باضابطہ مشاورت کے دوران 120 رکنی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے 67 ارکان نے گادی آئزن کوٹ کو وزیراعظم بنانے کی سفارش کی، جبکہ نیتن یاہو کے حصے میں صرف 46 ارکان کی حمایت آئی۔ اسرائیلی صدر کو 11 نومبر تک فیصلہ کرنا ہے کہ وہ حکومت سازی کا باضابطہ دعوت نامہ کس امیدوار کے سپرد کریں گے۔

انتخابی نتائج کے مطابق، نیتن یاہو کی جماعت ‘لیکود’ (Likud) نے 27 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کا اعزاز تو برقرار رکھا، تاہم ان کا مذہبی اور قوم پرست اتحاد مجموعی طور پر صرف 53 نشستیں حاصل کر سکا، جس سے وہ حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت سے محروم رہا۔ دوسری جانب، آئزن کوٹ کے حمایت یافتہ اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں جبکہ 19 نشستیں جیتنے والی عرب اقلیتی جماعتوں کے مکمل تعاون نے آئزن کوٹ کی برتری پر مہر ثبت کر دی۔ نیتن یاہو نے نتائج میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے جسے مرکزی انتخابی کمیٹی نے مسترد کر دیا ہے، جبکہ نئے حکومتی اتحاد کی تشکیل تک نیتن یاہو نگران وزیراعظم کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہیں گے