LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر

سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی سینیارٹی لسٹیں ویب سائٹس پر ڈالنا لازمی قرار

Web Desk

22 May 2026

وفاقی آئینی عدالت نے ملک بھر کے سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور بیوروکریسی کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ تمام سرکاری، نیم سرکاری ادارے اور خود مختار کارپوریشنز اپنی سینیارٹی لسٹیں (Seniority Lists) ہر سال لازمی اپ ڈیٹ کر کے اپنی آفیشل ویب سائٹس پر پبلک کرنے کی پابند ہوں گی۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے اس کیس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی سینیارٹی کی فہرستیں کسی بھی صورت خفیہ نہیں رکھی جا سکتیں اور سینیارٹی لسٹوں تک آسان رسائی حاصل کرنا ہر شہری اور سرکاری ملازم کا آئینی و بنیادی حق ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے حکم نامے میں تمام اداروں کو مندرجہ ذیل ہدایات جاری کی ہیں:

  • تمام سرکاری و خودمختار محکمے ہر سال جنوری کے مہینے میں اپنی سینیارٹی لسٹیں لازمی اپ ڈیٹ کریں۔

  • محکموں میں ہونے والی کسی بھی نئی بھرتی، ملازمین کی ترقی (Promotion) یا مستقلی (Confirmation) کے فوری بعد ان فہرستوں پر نظرثانی کرنا لازم ہوگا۔

  • ملازمت کے معاہدے (Contract) میں شامل کی گئی کوئی بھی ایسی شرط جو مروجہ قانون کے خلاف ہو، وہ کسی ملازم کے قانونی حقوق کو ختم نہیں کر سکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں پبلک ایڈمنسٹریشن کے ایک اہم ترین نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی اشتہار اور ایک ہی بیچ (Batch) کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی کا تعین صرف اور صرف میرٹ لسٹ میں حاصل کردہ پوزیشن کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ اس بنیاد پر کہ کس ملازم نے محکمے میں پہلے آ کر جوائننگ دی۔ عدالت نے واضح الفاظ میں قرار دیا کہ:

“سرکاری ملازمت میں ‘پہلے آؤ، پہلے پاؤ’ (First-come, first-served) کا اصول منصفانہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے تقاضوں اور آئین میں دیے گئے مساوی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔”

عدالت نے پائلٹ کیپٹن محمد علی خان کی سینیارٹی سے متعلق دائر اپیل کو منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا، جبکہ پورٹ قاسم اتھارٹی (PQA) کی جانب سے جاری کردہ متنازع سینیارٹی لسٹ کو فوری طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے نئی اور درست فہرست جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

کیس کے حقائق کے مطابق، پورٹ قاسم اتھارٹی نے درخواست گزار پائلٹ کو صرف ایک دن تاخیر سے ڈیوٹی جوائن کرنے کی بنیاد پر اپنے بیچ میٹ سے جونیئر قرار دے دیا تھا، حالانکہ وہ سلیکشن کمیٹی کی میرٹ لسٹ میں اپنے ساتھی سے بہتر پوزیشن پر موجود تھے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کی حتمی سفارشات کے بعد کوئی بھی محکمہ اپنی مرضی سے جوائننگ لیٹر کے اوقات تبدیل کر کے ملازمین کی سینیارٹی کو متاثر نہیں کر سکتا۔ عام طور پر ملازم کو جوائننگ کے لیے 7 دن کا وقت دیا جاتا ہے، لہٰذا اس طے شدہ مدت کے اندر پہلے یا بعد میں آنے سے میرٹ کی پوزیشن تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت عالیہ نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے ملازمین کی مستقلی کے 7 سال بعد تک سینیارٹی لسٹ جاری نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ فیصلے میں ریمارکس دیے گئے کہ پاکستان میں بے روزگاری کے خوف کے باعث غریب ملازمین اکثر محکموں کی سخت اور غیر قانونی شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لیکن کوئی بھی سرکاری محکمہ یا افسر ملازم کی اس مجبوری اور لاچاری کا فائدہ اٹھا کر قانون کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل نہیں کر سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ کرتے وقت پرانے عدالتی نظائر (Precedents) کا غلط استعمال کیا۔ عدالت نے اس تاریخی فیصلے کی کاپی فوری طور پر چاروں صوبوں (پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان) کے چیف سیکرٹریز کو عمل درآمد کے لیے ارسال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔