وکلا کی ہڑتالیں سائلین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہیں”: وفاقی آئینی عدالت
Web Desk
3 June 2026
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ایک تاریخی اور اہم ترین فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالوں کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے معزز جج جسٹس عامر فاروق کا تحریر کردہ یہ تفصیلی فیصلہ باقاعدہ طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں واشگاف الفاظ میں لکھا ہے کہ وکلا تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی یہ ہڑتالیں سائلین کے ‘انصاف تک رسائی’ کے بنیادی آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ آئینی عدالت کے مطابق، ایسی ہڑتالیں عام شہریوں کو ان کی قانونی نمائندگی کے حق سے محروم کر دیتی ہیں اور اس کے نتیجے میں پہلے سے شدید دباؤ کا شکار عدالتی نظام پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں ہڑتالوں کے باعث نظامِ عدل کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات بیان کی ہیںفیصلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جب بھی بار کونسلز کی جانب سے ہڑتال کی کال دی جاتی ہے، تو وکلا تنظیمیں دیگر وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے زبردستی روکتی ہیں۔ وکیل کی عدم پیشی کے باعث مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیش رفت کے اگلی تاریخ تک ملتوی کر دی جاتی ہے۔ ہمارا قانونی نظام پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور عدالتوں میں کیسز کی طویل فہرستیں (پینڈنسی) موجود ہیں۔ ان حالات میں سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک یا جائز کیوں نہ ہو، یہ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ شہریوں کو انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل یا بہانے سے محروم کرنا براہِ راست آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ تفصیلی فیصلہ خیبرپختونخوا بار کونسل کے ایک متنازع اقدام کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا، جس کا پسِ منظر درج ذیل ہے کے پی بار کونسل نے وکلا کو ایک وکیل کے قتل میں نامزد ملزم (جو کہ ایک ایس ایچ او تھا) کی قانونی نمائندگی کرنے سے روک دیا تھا۔ جب ایک متاثرہ وکیل نے اس پولیس افسر کی قانونی نمائندگی کی، تو بار کونسل نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اس وکیل کا لائسنس معطل کر دیا۔ متاثرہ وکیل نے اپنے لائسنس کی معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے وکیل کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کا لائسنس فوری بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے وکیل کے لائسنس بحال کرنے کے حکم کو برقرار رکھا ہے اور بار کونسلز کو آئندہ کے لیے ہڑتالوں اور وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکنے کے غیر قانونی اقدامات سے باز رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
متعلقہ عنوانات
آڈیو لیک کا معاملہ؛ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر مقدمات قائم،
9 June 2026
کالعدم جے اے اے سی (JAAC) کے 4 مطلوب ارکان کے لیے ایک کروڑ روپے انعام مقرر؛
9 June 2026
اڈیالہ جیل میں ملاقات کا دن؛ علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنما اور وکلا فیکٹری ناکے پر پہنچ گئے
9 June 2026
گلگت بلتستان انتخابات؛ مسلم لیگ (ن) کی بڑی شکست کا تاثر درست نہیں،خواجہ سعد رفیق
9 June 2026
کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں: حافظ نعیم الرحمان
9 June 2026
سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان
9 June 2026
26 نومبر احتجاج کیسز؛ بشریٰ بی بی کی 29 مقدمات میں عبوری ضمانتوں میں 23 جون تک توسیع،
9 June 2026
وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
9 June 2026