LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قیدیوں کا پرائیویٹ علاج: سپریم اور ہائیکورٹس سے تمام متعلقہ درخواستوں کا ریکارڈ طلب امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: میل بیلٹس پر پابندیوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان,امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اسحاق ڈار اور رافیل گروسی میں رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر اتفاق خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے: وزیراعظم وزیراعظم کی بارشوں، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہئے: جسٹس امین الدین خان ایران جنگ میں امریکا کو شدید عسکری اور معاشی نقصان پہنچا: امریکی محکمہ دفاع کانگو کے دو سکولوں میں آتشزدگی سے 29 طلبا جاں بحق، 300 گھر خاکستر اسرائیل کا غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر کو قتل کرنے کا دعویٰ جمہوریت کی کامیابی کیلئے قانون کی عملداری بنیادی امر ہے: مریم نواز مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے: ترک صدر پنجاب حکومت نے سہیل آفریدی کو سکیورٹی فراہم کر کے ذمہ داری کا ثبوت دیا: سلمان رفیق فلسطینیوں پر مظالم: ناروے کی اسرائیلی آبادکاروں سے تجارت پر پابندی کی تجویز علاقائی کشیدگی: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج مصر کا دورہ کریں گے

قیدیوں کا پرائیویٹ علاج: سپریم اور ہائیکورٹس سے تمام متعلقہ درخواستوں کا ریکارڈ طلب

Web Desk

15 September 2026

وفاقی آئینی عدالت نے قیدیوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج معالجے اور سہولیات کی فراہمی سے متعلق سپریم کورٹ اور تمام ہائیکورٹس سے زیر التوا مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی آئینی بینچ نے تین قیدیوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی طرز پر پرائیویٹ ہسپتال منتقلی اور سہولیات کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئینی تشریح سے جڑے اس نوعیت کے تمام مقدمات اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق توہینِ عدالت، ہسپتال منتقلی اور نظرثانی درخواستوں کی تمام دستاویزات آئینی عدالت کو بھجوائی جائیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاه کیا کہ آئین کے آرٹیکل 175-ای کی ذیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت یا ہائیکورٹ سے کیس کا ریکارڈ منگوانے کا کامل اختیار حاصل ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ درخواست گزار کا بنیادی موقف ہے کہ قانون اور آئین کا اطلاق امیر اور غریب دونوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ بینچ کے رکن جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عامر فاروق نے بھی اٹارنی جنرل سے سپریم کورٹ کے عبوری احکامات اور کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر سوالات کیے۔

آئینی بینچ کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وفاق کو نوٹس جاری کیے بغیر حکم جاری کیا تھا اور اب 26ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی تشریح کا تمام تر اختیار صرف وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔ بعد ازاں، وفاقی آئینی عدالت نے واضح قرار دیا کہ اختیارِ سماعت کے تعین اور آئینی تشریح کے تحت بانی پی ٹی آئی اور دیگر تمام قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے منسلک کیسز اور ریکارڈ کی حتمی سماعت اب صرف آئینی عدالت ہی کرے گی۔