LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری ایران نے اپنا مؤقف اور شرائط امریکا تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی سعودی قومی دن پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کو مبارکباد اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا علم اور اخلاق جارح دشمن کا ہاتھ کاٹ سکتے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر نیویارک میں امریکی و ایرانی وفود کی ملاقات امریکا کے اصرار پر ہوئی، ایرانی میڈیا بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کیلئے سعودی خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا چینل لانچ کر دیا ایران کے پڑوسی ممالک کا کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتکاری عمل کی بحالی پر زور آئی ایم ایف کا یوکرین کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے فنڈنگ کا فیصلہ ابتدائی ملاقات میں ٹرمپ کے ساتھ اچھا رابطہ قائم ہوا ہے، برطانوی وزیراعظم

وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت جاری کر دی

Web Desk

23 September 2026

وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس اور تبصروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف وزارتِ خزانہ کا نہیں بلکہ حکومت کا مجموعی پروگرام ہے۔ اس میں وزارتِ منصوبہ بندی، توانائی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور تمام صوبائی حکومتیں شامل ہیں، جو اپنے اپنے دائرہ کار سے متعلق تکنیکی مذاکرات اور اہداف کے تعین کا حصہ ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ پروگرام صرف مالیاتی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ معاشی ترقی، سماجی تحفظ، گورننس اور توانائی کی اصلاحات سمیت وسیع تر مقاصد پر مبنی ہے۔

وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) پروگرام کا بنیادی یا مرکزی نکتہ نہیں بلکہ یہ مختلف مالیاتی ذرائع میں سے ایک ہے۔ مالیاتی حکمتِ عملی میں ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا، صوبائی اخراجات کو متوازن بنانا اور بالخصوص زرعی آمدن پر ٹیکس کا نفاذ شامل ہے، جو آئینی طور پر صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک پر قرضوں میں اضافے کی رفتار دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی۔ مزید برآں، کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے فنڈز کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا گیا ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ اقتصادی استحکام اور مالیاتی پائیداری ہی طویل المدتی پائیدار معاشی ترقی اور نجی سرمایہ کاری کی ضامن ہے۔