LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم

وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت جاری کر دی

Web Desk

23 September 2026

وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس اور تبصروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف وزارتِ خزانہ کا نہیں بلکہ حکومت کا مجموعی پروگرام ہے۔ اس میں وزارتِ منصوبہ بندی، توانائی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور تمام صوبائی حکومتیں شامل ہیں، جو اپنے اپنے دائرہ کار سے متعلق تکنیکی مذاکرات اور اہداف کے تعین کا حصہ ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ پروگرام صرف مالیاتی اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ معاشی ترقی، سماجی تحفظ، گورننس اور توانائی کی اصلاحات سمیت وسیع تر مقاصد پر مبنی ہے۔

وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) پروگرام کا بنیادی یا مرکزی نکتہ نہیں بلکہ یہ مختلف مالیاتی ذرائع میں سے ایک ہے۔ مالیاتی حکمتِ عملی میں ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا، صوبائی اخراجات کو متوازن بنانا اور بالخصوص زرعی آمدن پر ٹیکس کا نفاذ شامل ہے، جو آئینی طور پر صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک پر قرضوں میں اضافے کی رفتار دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی۔ مزید برآں، کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے فنڈز کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا گیا ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ اقتصادی استحکام اور مالیاتی پائیداری ہی طویل المدتی پائیدار معاشی ترقی اور نجی سرمایہ کاری کی ضامن ہے۔