LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کراچی: کیمیکل فیکٹری میں آگ لگ گئی سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر سے زائد قرض رول اوور کر دیا اگر مجھےبیرون ملک گرفتارکیا گیا تو میرے لیے ‘خصوصی دستے’ تیار ہیں، نیتن یاہوکا دعویٰ کشمیر کےحالات کا حل پیپلزپارٹی کے پاس موجود ہے: بلاول بھٹو زرداری شہید اہلکاروں نے جانیں قربان کرکے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا: محسن نقوی اٹک سے 5 کروڑ تاوان کیلئے اغوا کی جانے والی لڑکی ہری پور سے بازیاب پاکستان کا کویت کی جانب سے 2023 کے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم ایران نے دشمن کیخلاف مزاحمت کی نئی مثال قائم کی: مسعود پزشکیان ہنگو میں چیک پوسٹ پر حملہ:8 دہشتگرد جہنم واصل، ڈی ایس پی سمیت 7 اہلکار شہید پٹرول 75 پیسے فی لٹر سستا، ڈیزل 2 روپے 24 پیسے مہنگا ہوگیا پاکستان اور مصر کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ، فلسطینیوں کی حمایت پر اتفاق ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر نئی پابندیاں، 8 تیل بردار جہاز اور 10 ادارے نشانے پر کویتی وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، دفاعی تعاون پر اتفاق ن لیگ خیراتی مینڈیٹ کی حکومت ہے، کشمیر میں ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: شرجیل انعام میمن کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بند کی جائے: 27 جولائی کے الیکشن فراڈ تھے، بیرسٹر گوہر

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی

Web Desk

29 December 2025

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے اختیارات سے تجاوز اور ٹاپ سٹی کیس میں فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ اپیل ایجوٹینٹ جنرل کے دفتر میں جمع کروا دی گئی ہے اور اس اپیل پر فیصلہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے 40 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے۔
وکیل کے مطابق اگر اپیل مسترد ہو جاتی ہے تو مزید دو قانونی فورمز دستیاب ہوں گے، جن میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان شامل ہیں۔
واضح رہے کہ فوجی عدالت نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی، جسے ماہرین پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے بڑے اور غیر معمولی واقعات میں شمار کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ سزا 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع ہونے والی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی 15 ماہ طویل کارروائی کے بعد سنائی گئی۔ فوجی بیان میں الزامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم ماہرین اسے 2018 کے عام انتخابات، مختلف سیاسی احتجاجی مظاہروں اور 9 مئی 2023 کے واقعات سے جوڑ رہے ہیں۔