LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

2025ء میں دھماکہ خیز ہتھیاروں سے ہونیوالی 56 فیصد اموات میں اسرائیلی فوج ملوث نکلی

Web Desk

12 June 2026

لندن / غزہ: سال 2025ء کے دوران دنیا بھر کے جنگی تنازعات میں دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق بین الاقوامی ادارے “ایکسپلوزو ویپن مانیٹر” (Explosive Weapon Monitor) نے ایک انتہائی ہولناک اور تشویش ناک رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال دھماکا خیز ہتھیاروں کے باعث دنیا بھر میں ہونے والی مجموعی شہری اموات میں سے 56 فیصد کی ذمہ دار اکیلی اسرائیلی فوج نکلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سال 2025ء کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں دھماکا خیز ہتھیاروں (Explosive Weapons) کے استعمال سے مجموعی طور پر 22 ہزار 600 بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے۔ اس مجموعی جانی نقصان میں سے 56 فیصد ہلاکتیں براہِ راست اسرائیلی فوجی کارروائیوں، بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں ہوئیں، جو عالمی سطح پر کسی بھی ایک ملک یا فوج کی طرف سے شہریوں کو پہنچایا جانے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ زدہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں اور امدادی سرگرمیوں (Humanitarian Activities) کو نشانہ بنانے کے رجحان میں ہولناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2025ء کے دوران امدادی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے حملوں میں دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال میں 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں پیش آنے والے ایسے تمام تباہ کن واقعات میں سے تقریباً 90 فیصد واقعات صرف اور صرف فلسطینی علاقوں (غزہ اور مغربی کنارے) میں پیش آئے۔ ایکسپلوزو ویپن مانیٹر کی ریسرچ اور مانیٹرنگ منیجر، کیتھرین ینگ نے اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “جب بھی گنجان آباد اور شہری علاقوں میں دھماکا خیز ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں، تو اس کے بھیانک نتائج صرف معصوم شہری آبادی کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ مختلف عالمی تنازعات میں شہریوں کو پہنچنے والا یہ اندوہناک نقصان اب مسلسل اور ایک معمول (Normal) بنتا جا رہا ہے، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے”۔

بین الاقوامی ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس رپورٹ کے بعد عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گنجان آباد شہری علاقوں میں بھاری دھماکا خیز مواد اور ہتھیاروں کے استعمال پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرانے کے لیے جنگی جرائم میں ملوث ممالک پر دباؤ بڑھائیں۔