2025ء میں دھماکہ خیز ہتھیاروں سے ہونیوالی 56 فیصد اموات میں اسرائیلی فوج ملوث نکلی
Web Desk
12 June 2026
لندن / غزہ: سال 2025ء کے دوران دنیا بھر کے جنگی تنازعات میں دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق بین الاقوامی ادارے “ایکسپلوزو ویپن مانیٹر” (Explosive Weapon Monitor) نے ایک انتہائی ہولناک اور تشویش ناک رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال دھماکا خیز ہتھیاروں کے باعث دنیا بھر میں ہونے والی مجموعی شہری اموات میں سے 56 فیصد کی ذمہ دار اکیلی اسرائیلی فوج نکلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سال 2025ء کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں دھماکا خیز ہتھیاروں (Explosive Weapons) کے استعمال سے مجموعی طور پر 22 ہزار 600 بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے۔ اس مجموعی جانی نقصان میں سے 56 فیصد ہلاکتیں براہِ راست اسرائیلی فوجی کارروائیوں، بمباری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں ہوئیں، جو عالمی سطح پر کسی بھی ایک ملک یا فوج کی طرف سے شہریوں کو پہنچایا جانے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ زدہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں اور امدادی سرگرمیوں (Humanitarian Activities) کو نشانہ بنانے کے رجحان میں ہولناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2025ء کے دوران امدادی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے حملوں میں دھماکا خیز ہتھیاروں کے استعمال میں 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں پیش آنے والے ایسے تمام تباہ کن واقعات میں سے تقریباً 90 فیصد واقعات صرف اور صرف فلسطینی علاقوں (غزہ اور مغربی کنارے) میں پیش آئے۔ ایکسپلوزو ویپن مانیٹر کی ریسرچ اور مانیٹرنگ منیجر، کیتھرین ینگ نے اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “جب بھی گنجان آباد اور شہری علاقوں میں دھماکا خیز ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں، تو اس کے بھیانک نتائج صرف معصوم شہری آبادی کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ مختلف عالمی تنازعات میں شہریوں کو پہنچنے والا یہ اندوہناک نقصان اب مسلسل اور ایک معمول (Normal) بنتا جا رہا ہے، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے”۔
بین الاقوامی ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس رپورٹ کے بعد عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گنجان آباد شہری علاقوں میں بھاری دھماکا خیز مواد اور ہتھیاروں کے استعمال پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرانے کے لیے جنگی جرائم میں ملوث ممالک پر دباؤ بڑھائیں۔
متعلقہ عنوانات
ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس
15 June 2026
ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ
15 June 2026
امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے
15 June 2026
روس کا سٹریٹیجک بمبار طیارہ ٹی یو 22 سائبیریا میں گر کر تباہ
15 June 2026
ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے
15 June 2026
بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو
15 June 2026
ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی
15 June 2026
اسحاق ڈار کی برطانوی حکام سے ملاقات، پاکستانی سفارتی کردار کو سراہا گیا
15 June 2026