LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے معدنی ذخائر میں بڑا اضافہ، ہیروں کے ذخائر 10 کروڑ قیراط سے متجاوز بھارتی شہر کان پور میں تربیتی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ اور انسٹرکٹر ہلاک بلوچستان: فتنہ الہندوستان سے وابستہ 9 دہشت گرد خواتین کے سر کی قیمتیں مقرر سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر خیبر پختونخوا کے مزید 32 سرکاری ہسپتال نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کے خلاف مقدمہ جون 2028 میں شروع ہوگا پنجاب کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے اطراف فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب کا حکم پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان

یورپی یونین نے افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کر دی

Web Desk

1 June 2026

اسلام آباد: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے. تاہم، انہوں نے زور دیا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے فضائی حملوں کے بجائے مذاکرات اور تحمل کا مظاہرہ ہی سب سے بہترین اور مؤثر راستہ ہے. سٹریٹجک مذاکرات کے دوران مختلف اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں کایا کالاس نے پرتپاک استقبال پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاک یورپی یونین تعاون مزید فروغ پائے گا. انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی میں پاکستان کے کلیدی کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اس تنازع نے دنیا کو توانائی کے سنگین بحران سے دوچار کیا ہے، جس کے باعث پائیدار جنگ بندی اور سفارتی عمل کا تسلسل ناگزیر ہو چکا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ سال 2026 کے لیے بنیادی ہدف پاک یورپی یونین تعلقات کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے کیونکہ پاکستان خطے کی ایک بڑی طاقت اور یورپی یونین کا اہم تجارتی و اقتصادی شراکت دار ہے.

دوسری جانب، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور یورپی قیادت کی جانب سے پاک بھارت کشیدگی اور امریکہ-ایران تنازع کے دوران مسلسل رابطے میں رہنے کو ستائش کے قابل قرار دیا. انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے کسی اعلیٰ خارجہ پالیسی عہدیدار کا یہ دورہ 7 برس بعد ہو رہا ہے جو طویل المدتی شراکت داری کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے. اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ سٹریٹجک مذاکرات کے حالیہ 8ویں دور میں سکیورٹی، تجارت، اقتصادی تعاون کے علاوہ افغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کی موجودگی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی ہے. واضح رہے کہ یورپی یونین پاکستان کی دوسری بڑی تجارتی شراکت دار ہے، جس کے تحت جی ایس پی پلس (GSP+) اسکیم کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی کے ساتھ رسائی حاصل ہے. اپنے اس اہم دورے کے دوران کایا کالاس صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی اہم ملاقاتیں کریں گی، جبکہ مختلف تھنک ٹینکس اور جامعات کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا.