LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کیلئے بغداد اور واشنگٹن میں رابطے جاری میر رضا قتل کیس: مقتول کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد مل گئے امریکا سفارت کاری میں ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لیتا ہے: اسماعیل بقائی عمان میں پھنسے آئل ٹینکر سے خام تیل کا اخراج بدستور جاری امریکا سمجھ چکا آبنائے ہرمز فوجی طاقت سے نہیں کھلے گا: ایران کولمبیا میں شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری،77 افراد ہلاک، درجنوں عمارتیں منہدم حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان روس جیسے وسیع ملک میں علاقوں کا آبادی سے خالی ہونا ناقابل قبول ہے: صدر پوتن حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی: احسن اقبال شمالی وزیرستان میں رات کے اوقات میں عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگنے کا اعلان محمد علی ملک سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر مقرر، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 14 غربی باغ میں بڑا اپ سیٹ، ساجد اقبال کی سردار عتیق کو شکست سپریم لیڈر نے ایران کی مسلح افواج میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تقرریاں کردیں

ٹرمپ کا ایران پر نئی فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھنے کا اعلان

Web Desk

9 August 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے معاملے کو فی الحال کم شدت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے اور انہوں نے تہران کے خلاف کسی نئے بڑے فوجی آپریشن کا فی الوقت کوئی اشارہ نہیں دیا۔ امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ (Axios) کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان صرف “نیم مذاکرات” (Semi-negotiations) ہو رہے ہیں، تاہم واشنگٹن خطے میں پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت شدید معاشی بحران اور ریکارڈ مہنگائی کا شکار ہے، یہاں تک کہ اس کے پاس اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، لیکن امریکہ اس اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے فی الحال نئی عسکری کارروائی سے گریز کرے گا۔ امریکی صدر نے اس تنازع کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ابھی اس کھیل کے درمیان میں ہیں اور بالآخر معاملے کا حل نکل آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں $75 فی بیرل سے کچھ زائد رہنے کی وجہ سے امریکی صارفین پر جنگی اثرات اور معاشی دباؤ کم ہے۔