ٹرمپ کا ایران پر نئی فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ بڑھنے کا اعلان
Web Desk
9 August 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے معاملے کو فی الحال کم شدت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے اور انہوں نے تہران کے خلاف کسی نئے بڑے فوجی آپریشن کا فی الوقت کوئی اشارہ نہیں دیا۔ امریکی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ (Axios) کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان صرف “نیم مذاکرات” (Semi-negotiations) ہو رہے ہیں، تاہم واشنگٹن خطے میں پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت شدید معاشی بحران اور ریکارڈ مہنگائی کا شکار ہے، یہاں تک کہ اس کے پاس اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، لیکن امریکہ اس اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے فی الحال نئی عسکری کارروائی سے گریز کرے گا۔ امریکی صدر نے اس تنازع کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ابھی اس کھیل کے درمیان میں ہیں اور بالآخر معاملے کا حل نکل آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں $75 فی بیرل سے کچھ زائد رہنے کی وجہ سے امریکی صارفین پر جنگی اثرات اور معاشی دباؤ کم ہے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 September 2026
اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان
22 September 2026
ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
22 September 2026
8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ
22 September 2026
عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور
22 September 2026
امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ
22 September 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
22 September 2026