LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر کی دفاعی معاہدے کی حمایت خوش آئند ہے: طاہر اشرفی ایران جارح قوتوں کے سامنے کسی صورت نہیں جھکے گا: مسعود پزشکیان عمرکوٹ میں زمیندار کی مبینہ نجی جیل سے خواتین اور بچوں سمیت 34 ہاری بازیاب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی پی ٹی آئی رہنماؤں نے لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیدیا: ذرائع مولاناکو جلد احساس ہوگا ان کا فیصلہ ملک و قوم کے حق میں نہیں: رانا تنویر حسین ہنزہ کے بالائی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری، موسم سرد ہو گیا انسانی حقوق کی آڑ میں بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں فتنہ الہندوستان کے 8 دہشت گرد ہلاک دہشت گردی اور تشدد جمہوریت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے: بلاول بھٹو سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کے معائنے کا عمل شروع ، کئی عمارتیں خستہ حال قرار پنجاب میں ایک سال کے دوران 4 لاکھ مویشی تیار، لائیوسٹاک برآمدات میں 43 فیصد اضافہ انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران

مکہ، طائف اور تبوک میں خطرے کی وارننگ ختم، سعودی سول ڈیفنس کا اعلان

Web Desk

24 September 2026

سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، طائف اور شمال مغربی علاقے تبوک میں ہنگامی صورتِ حال کے بعد خطرہ ٹل جانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس سے قبل حکام کی جانب سے جدہ اور ینبع سمیت مختلف اہم شہروں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تحذراتی وارننگ جاری کی گئی تھی، جس کے تحت شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری اجتماعات سے بچنے اور متوقع خطرے کی سائٹس پر ویڈیوز بنانے سے مکمل گریز کرنے کی شدید ہدایت کی گئی تھی۔

سعودی عرب کے ابتدائی وارننگ پلیٹ فارم (Early Warning Platform) کے ذریعے شہریوں کو الرٹس بھیجے گئے تھے، تاہم سول ڈیفنس یا دیگر سرکاری حکام کی جانب سے اس الرٹ کی حتمی اور دقیق نوعیت سے متعلق تفصیلات عام نہیں کی گئی تھیں۔ خطرہ ٹلنے کے اعلان کے بعد انتظامیہ نے شہریوں کو معمولاتِ زندگی پر واپس آنے کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی یا موسمی الرٹ کی صورت میں محض سرکاری ذرائع پر اعتماد کرنے کی اپیل کی ہے۔