LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روسی علاقوں پر رات گئے یوکرینی ڈرون حملے: 40 ڈرون تباہ، آئل ڈپو کو نقصان امریکا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر اسرائیل مخالف مظاہرہ برطانوی رائل ائیرفورس کا جنگی طیارہ تربیت کے دوران گر کر تباہ جدید ترین امریکی لڑاکا طیارے F-35 کے حساس پرزے چین کے ہاتھ لگ گئے ‘امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں’ ، چینی صدر شی جن پنگ کا صدر ٹرمپ سے مطالبہ سی این این سمیت 3 بڑے میڈیا اداروں کے نمائندوں کو بالآخر وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت مل گئی سعودی اتحادی فورس کا حوثی ملیشیا کے 6 بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ مصطفیٰ کمال نے پاکستان کو بچانے کیلئے نئے صوبے لازم و ملزوم قرار دیدیئے پاکستانی و لبنانی وزرائے اعظم کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ شرجیل میمن سندھ حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں: علی خورشیدی وزیراعظم کی بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات، تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اظہار اطمینان نیتن یاہو کی تقریر، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے 77 ممالک کے وفود کا واک آؤٹ برطانیہ یوکرین تنازع کا باقاعدہ فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے، روس صدر پوتن کو جی 20 اجلاس میں شرکت کی امریکی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: کریملن کارکن کے قتل پر پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری کا شدید اظہارِ مذمت

برطانیہ یوکرین تنازع کا باقاعدہ فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے، روس

Web Desk

24 September 2026

روس نے برطانیہ کو سخت ترین انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو مسلسل مالی، سیاسی اور عسکری معاونت فراہم کرنے کے باعث لندن اس تنازع کا باقاعدہ اور قانونی فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی اقدامات دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاہدوں اور قانونی دستاویزات کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اشتعال انگیزی خود برطانیہ کی اپنی ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

روسی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماسکو نے برطانوی ناظم الامور کو پیش کیے گئے ایک تفصیلی سفارتی مراسلے میں اپنے سخت تحفظات اور اصولی مؤقف سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ برطانوی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران ماسکو کو بنیادی حقائق اور تحفظات باور کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ لندن اپنے تعصبات اور غلط فہمیوں کی وجہ سے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔