LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد میں زیرِ زمین کیبل چوری کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 4 ملزمان گرفتار ایرانی صدر کی دفاعی معاہدے کی حمایت خوش آئند ہے: طاہر اشرفی ایران جارح قوتوں کے سامنے کسی صورت نہیں جھکے گا: مسعود پزشکیان عمرکوٹ میں زمیندار کی مبینہ نجی جیل سے خواتین اور بچوں سمیت 34 ہاری بازیاب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی پی ٹی آئی رہنماؤں نے لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیدیا: ذرائع مولاناکو جلد احساس ہوگا ان کا فیصلہ ملک و قوم کے حق میں نہیں: رانا تنویر حسین ہنزہ کے بالائی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری، موسم سرد ہو گیا انسانی حقوق کی آڑ میں بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں فتنہ الہندوستان کے 8 دہشت گرد ہلاک دہشت گردی اور تشدد جمہوریت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے: بلاول بھٹو سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کے معائنے کا عمل شروع ، کئی عمارتیں خستہ حال قرار پنجاب میں ایک سال کے دوران 4 لاکھ مویشی تیار، لائیوسٹاک برآمدات میں 43 فیصد اضافہ انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی

برطانیہ یوکرین تنازع کا باقاعدہ فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے، روس

Web Desk

24 September 2026

روس نے برطانیہ کو سخت ترین انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو مسلسل مالی، سیاسی اور عسکری معاونت فراہم کرنے کے باعث لندن اس تنازع کا باقاعدہ اور قانونی فریق بننے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی اقدامات دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاہدوں اور قانونی دستاویزات کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اشتعال انگیزی خود برطانیہ کی اپنی ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

روسی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماسکو نے برطانوی ناظم الامور کو پیش کیے گئے ایک تفصیلی سفارتی مراسلے میں اپنے سخت تحفظات اور اصولی مؤقف سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ برطانوی حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران ماسکو کو بنیادی حقائق اور تحفظات باور کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ لندن اپنے تعصبات اور غلط فہمیوں کی وجہ سے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔