فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب، غزہ میں قتل عام روکنے کا مطالبہ
Web Desk
24 September 2026
فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے امریکی ویزا پابندیوں اور فلسطینی وفد کو نیویارک جانے سے روکنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں فلسطینی وفد کو شرکت سے محروم رکھنا میزبانی کے بین الاقوامی معاہدوں اور امریکا کی عالمی ذمہ داریوں سے صریحاً متصادم ہے۔ ویزا پابندیوں کے باعث اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے صدر محمود عباس کو ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس سے خطاب کی خصوصی اجازت دی تھی۔
اپنے خطاب کے دوران صدر محمود عباس نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کو ایک بار پھر صریح ‘نسل کشی کی جنگ’ اور انسانی الائم کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کو اس وقت بدترین قتلِ عام، تباہی، بھوک اور جبری بے دخلی کا سامنا ہے، جو کسی دوسرے ‘نکبہ’ کی پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں نے اس کا خیرمقدم کیا تھا لیکن تاحال اس پر عمل درآمد اور پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری خون ریزی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد روکا جائے اور ‘دو ریاستی حل’ پر عمل درآمد کر کے خطے میں دائمی امن یقینی بنایا جائے۔
متعلقہ عنوانات
اسلام آباد میں زیرِ زمین کیبل چوری کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 4 ملزمان گرفتار
19 October 2026
ایرانی صدر کی دفاعی معاہدے کی حمایت خوش آئند ہے: طاہر اشرفی
19 October 2026
ایران جارح قوتوں کے سامنے کسی صورت نہیں جھکے گا: مسعود پزشکیان
19 October 2026
عمرکوٹ میں زمیندار کی مبینہ نجی جیل سے خواتین اور بچوں سمیت 34 ہاری بازیاب
19 October 2026
ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان
19 October 2026
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی
19 October 2026
پی ٹی آئی رہنماؤں نے لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیدیا: ذرائع
19 October 2026
مولاناکو جلد احساس ہوگا ان کا فیصلہ ملک و قوم کے حق میں نہیں: رانا تنویر حسین
19 October 2026