ریکارڈ تعداد میں امریکی شہریوں کا ملک چھوڑنے کا انکشاف, تارکینِ وطن کا ملک اب ہجرت کا گڑھ بننے لگا؟
Web Desk
1 June 2026
واشنگٹن: اپنی آزادی اور قیام کے 250ویں سال میں داخل ہونے والا امریکہ، جو کبھی دنیا بھر کے تارکینِ وطن کے لیے سب سے پسندیدہ ملک (جہاں لوگ منتقل ہوتے تھے) سمجھا جاتا تھا، اب خود ہجرت یعنی ملک چھوڑ کر جانے والوں (Emigration) کا ملک بنتا جا رہا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ریکارڈ تعداد میں امریکی شہری اپنے وطن کو خیرباد کہہ کر بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال امریکہ کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جو قطعی طور پر ‘عظیم معاشی کساد بازاری’ (Great Depression) کے بعد سے اب تک کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی؛ یعنی ملک میں آنے والے نئے افراد کے مقابلے میں یہاں سے باہر منتقل ہونے والے لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ رہی۔ ایک امریکی شہری نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “مجھے یہ توقع بالکل نہیں تھی کہ میں بیرونِ ملک اس قدر زیادہ امریکیوں کے درمیان گھرا ہوا ہوں گا۔” یہ شہری بیرونِ ملک موجود پرسکون اور سستی زندگی کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جہاں امریکہ کی پرکشش تنخواہوں کی بدولت وہ ایک بہترین اور سستی طرزِ زندگی گزارنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف اور تارکینِ وطن پر کریک ڈاؤن
ٹرمپ انتظامیہ نے ملک سے لوگوں کے اس بڑے پیمانے پر انخلا—یعنی منفی خالص ہجرت (Negative Net Migration)—کو اپنے اس وعدے کی تکمیل قرار دیا ہے جس کے تحت انہوں نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی (Deportations) کو تیز کرنے اور نئے ویزوں کے اجراء کو سخت اور محدود کرنے کا عہد کیا تھا۔
تاہم، امیگریشن کے خلاف کیے جانے والے اس سخت کریک ڈاؤن کے پرشور منظرنامے کے پیچھے ایک ایسی حقیقت چھپی ہوئی ہے جس پر بہت کم لوگوں کی توجہ گئی ہے؛ اور وہ یہ کہ اب خود امریکہ کے اپنے باقاعدہ شہری ریکارڈ تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔
امریکی شہری اپنے خاندانوں سمیت دنیا کے دیگر ایسے ممالک میں جا کر آباد ہو رہے ہیں جنہیں وہ موجودہ امریکی حالات کے مقابلے میں معاشی طور پر زیادہ سستا، پرسکون اور محفوظ پاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکی شہریوں کی اپنے ملک سے ہجرت کی یہ لہر اسی طرح برقرار رہی، تو یہ مستقبل میں امریکی معیشت اور افرادی قوت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا کا مؤقف مسلسل تبدیل، متضاد پیغامات سے مذاکرات پیچیدہ بنا رہا ہے: ایران
1 June 2026
امید ہے اس بار ہماری کوئی سیٹ چوری نہیں ہوگی: بلاول بھٹو
1 June 2026
یورپی یونین نے افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کر دی
1 June 2026
1126 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ، جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی سفارش
1 June 2026
بجٹ 2026-27: چاروں صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں کا مجموعی حجم 3,138 ارب روپے تجویز، پنجاب پہلے اور سندھ دوسرے نمبر پر
1 June 2026
پنجاب: پرائیویٹ جنریٹرز اور سولر پاور پر الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز منظور
1 June 2026
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کلاس کی دفتر خارجہ آمد
1 June 2026
مریم نواز کا بچوں کی کردار سازی میں والدین کی قربانیوں کو خراجِ تحسین
1 June 2026