LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرپشن، بدعنوانی عروج پر، کے پی میں گورننس نام کی چیز نہیں: عطا تارڑ ’اب بہت ہو گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے‘؛ اپوزیشن اجلاس اسٹاک مارکیٹ کریش، 100 انڈیکس کی 3700 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ تنزلی اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران-امریکا کشیدگی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اثر؛اسٹاک ایکسچینج کریش امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا رستم بازار میں بم دھماکہ

افغانستان عالمی افیون پیدا کرنے والا بڑا مرکز برقرار: اقوامِ متحدہ

Web Desk

6 November 2025

اقوامِ متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان عالمی سطح پر افیون کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں افغانستان میں تقریباً 10,200 ہیکٹر رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی، جو 2024 میں کاشت کے رقبے کے مقابلے میں 20 فیصد کمی ہے۔
گذشتہ سال 2024 میں افیون کی کاشت میں 2023 کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کی کاشت 2023 میں 10,800 ہیکٹر، 2024 میں 12,800 ہیکٹر، اور 2025 میں 10,200 ہیکٹر پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، زابل، کنڑ اور تخار صوبوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم خشک سالی کے باعث افیون کی فصل بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی۔ 2025 میں افیون کی مجموعی پیداوار 296 ٹن رہی اور فی کلوگرام قیمت 570 امریکی ڈالر رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود پچھلے سالوں کا افیون اسٹاک 2026 تک عالمی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پلانٹ بیسڈ منشیات کے بجائے اب سنتھیٹک منشیات منافع بخش ماڈل بن چکی ہیں اور خصوصاً آئس (Methamphetamine) کی پیداوار افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ پیداوار اور اسمگلنگ میں آسانی کی وجہ سے سنتھیٹک ڈرگز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان دنیا کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ افیون پیدا کرتے ہیں۔