LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

افغانستان عالمی افیون پیدا کرنے والا بڑا مرکز برقرار: اقوامِ متحدہ

Web Desk

6 November 2025

اقوامِ متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان عالمی سطح پر افیون کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں افغانستان میں تقریباً 10,200 ہیکٹر رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی، جو 2024 میں کاشت کے رقبے کے مقابلے میں 20 فیصد کمی ہے۔
گذشتہ سال 2024 میں افیون کی کاشت میں 2023 کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کی کاشت 2023 میں 10,800 ہیکٹر، 2024 میں 12,800 ہیکٹر، اور 2025 میں 10,200 ہیکٹر پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، زابل، کنڑ اور تخار صوبوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم خشک سالی کے باعث افیون کی فصل بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی۔ 2025 میں افیون کی مجموعی پیداوار 296 ٹن رہی اور فی کلوگرام قیمت 570 امریکی ڈالر رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود پچھلے سالوں کا افیون اسٹاک 2026 تک عالمی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پلانٹ بیسڈ منشیات کے بجائے اب سنتھیٹک منشیات منافع بخش ماڈل بن چکی ہیں اور خصوصاً آئس (Methamphetamine) کی پیداوار افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ پیداوار اور اسمگلنگ میں آسانی کی وجہ سے سنتھیٹک ڈرگز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان دنیا کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ افیون پیدا کرتے ہیں۔