LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

افغانستان عالمی افیون پیدا کرنے والا بڑا مرکز برقرار: اقوامِ متحدہ

Web Desk

6 November 2025

اقوامِ متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان عالمی سطح پر افیون کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں افغانستان میں تقریباً 10,200 ہیکٹر رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی، جو 2024 میں کاشت کے رقبے کے مقابلے میں 20 فیصد کمی ہے۔
گذشتہ سال 2024 میں افیون کی کاشت میں 2023 کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کی کاشت 2023 میں 10,800 ہیکٹر، 2024 میں 12,800 ہیکٹر، اور 2025 میں 10,200 ہیکٹر پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، زابل، کنڑ اور تخار صوبوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم خشک سالی کے باعث افیون کی فصل بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی۔ 2025 میں افیون کی مجموعی پیداوار 296 ٹن رہی اور فی کلوگرام قیمت 570 امریکی ڈالر رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود پچھلے سالوں کا افیون اسٹاک 2026 تک عالمی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پلانٹ بیسڈ منشیات کے بجائے اب سنتھیٹک منشیات منافع بخش ماڈل بن چکی ہیں اور خصوصاً آئس (Methamphetamine) کی پیداوار افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ پیداوار اور اسمگلنگ میں آسانی کی وجہ سے سنتھیٹک ڈرگز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان دنیا کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ افیون پیدا کرتے ہیں۔