LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

افغانستان عالمی افیون پیدا کرنے والا بڑا مرکز برقرار: اقوامِ متحدہ

Web Desk

6 November 2025

اقوامِ متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان عالمی سطح پر افیون کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں افغانستان میں تقریباً 10,200 ہیکٹر رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی، جو 2024 میں کاشت کے رقبے کے مقابلے میں 20 فیصد کمی ہے۔
گذشتہ سال 2024 میں افیون کی کاشت میں 2023 کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کی کاشت 2023 میں 10,800 ہیکٹر، 2024 میں 12,800 ہیکٹر، اور 2025 میں 10,200 ہیکٹر پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، زابل، کنڑ اور تخار صوبوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم خشک سالی کے باعث افیون کی فصل بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی۔ 2025 میں افیون کی مجموعی پیداوار 296 ٹن رہی اور فی کلوگرام قیمت 570 امریکی ڈالر رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود پچھلے سالوں کا افیون اسٹاک 2026 تک عالمی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پلانٹ بیسڈ منشیات کے بجائے اب سنتھیٹک منشیات منافع بخش ماڈل بن چکی ہیں اور خصوصاً آئس (Methamphetamine) کی پیداوار افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ پیداوار اور اسمگلنگ میں آسانی کی وجہ سے سنتھیٹک ڈرگز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان دنیا کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ افیون پیدا کرتے ہیں۔