LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک میں بھی شامل ہوں گے: ترک صدر کیلیفورنیا اسٹیٹ اسمبلی میں پاک امریکا تعلقات کو خراج تحسین کی تاریخی قرارداد منظور امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک آسٹریا: روسی دفاعی صنعت کو سامان کی فراہمی پر 2 بیلا روسی شہریوں کو سزا سنا دی گئی امریکہ میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا سکینڈل بے نقاب کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی، ٹرمپ امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنےکی کوشش پر ایران کی سخت ردعمل کی دھمکی عراق نے اکتوبر تک غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنےکا عزم ظاہر کر دیا ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا ایرانی عدالت نے اسرائیلی اور امریکی مفادات کیلئےکام کرنےکے الزام میں خاتون صحافی کو 15 سال قید کی سزا سنادی انقرہ میں ٹرمپ کے طیارے پر حملے کی سازش کی اسرائیلی رپورٹ جعلی ہے، ترک حکام امریکا کے وفاقی بجٹ خسارے میں ریکارڈ اضافہ کانگریس رکنِ الہان عمر نے مینیسوٹا سے ڈیموکریٹک پرائمری جیت لی بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کے الیکشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی: طارق فضل چودھری

افغانستان عالمی افیون پیدا کرنے والا بڑا مرکز برقرار: اقوامِ متحدہ

Web Desk

6 November 2025

اقوامِ متحدہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان عالمی سطح پر افیون کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں افغانستان میں تقریباً 10,200 ہیکٹر رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی، جو 2024 میں کاشت کے رقبے کے مقابلے میں 20 فیصد کمی ہے۔
گذشتہ سال 2024 میں افیون کی کاشت میں 2023 کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کی کاشت 2023 میں 10,800 ہیکٹر، 2024 میں 12,800 ہیکٹر، اور 2025 میں 10,200 ہیکٹر پر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، زابل، کنڑ اور تخار صوبوں میں افیون کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم خشک سالی کے باعث افیون کی فصل بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی۔ 2025 میں افیون کی مجموعی پیداوار 296 ٹن رہی اور فی کلوگرام قیمت 570 امریکی ڈالر رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود پچھلے سالوں کا افیون اسٹاک 2026 تک عالمی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پلانٹ بیسڈ منشیات کے بجائے اب سنتھیٹک منشیات منافع بخش ماڈل بن چکی ہیں اور خصوصاً آئس (Methamphetamine) کی پیداوار افغانستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ پیداوار اور اسمگلنگ میں آسانی کی وجہ سے سنتھیٹک ڈرگز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان دنیا کے ان تین بڑے ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ افیون پیدا کرتے ہیں۔