LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اینڈی برنہم نے برطانیہ کے 59ویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مالی گوشوارے طلب کر لیے امریکا سے لڑائی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے: ایران پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس: عدالت کا جیل انتظامیہ سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم امریکا کا بوشہر میں زیر تعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ خطے کیلئے خطرناک ہے: ایران وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ شہباز شریف کے ہتکِ عزت دعوے کا کیس، وکیل کی درخواست پر دلائل طلب قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری سے مشروط عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ وزیراعظم کی قومی ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اعلیٰ معیار کیساتھ مکمل کرنے کی ہدایت مال بردار ٹرین کی بوگیاں ڈی ریل ہونے سے ٹریک تاحال بند، بحالی کا کام جاری

پاکستان کو مناسب وقت پر ضرور جواب دیا جائے گا،افغان حکومت

Web Desk

25 November 2025

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان نے پاکستان پر افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا، خوست اور کنڑ میں فضائی حملوں کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے اور رسوائی کے سوا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔

طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان اس الزام کے کئی گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صوبہ پکتیکا، خوست اور کنڑ میں کیے گئے فضائی حملے نہ صرف افغانستان کی خودمختاری اور فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصولوں اور قوانین سے بھی کھلا انحراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی اس نوعیت کی جارحیت سے انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ اس حملے سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ ’غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے فوجی رجیم کی ناکامی اور رسوائی کے سوا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔‘ افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کی جانب سے اپنی حدود کی خلاف ورزی اور مجرمانہ اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان اپنے فضائی و زمینی حدود اور اپنے قوم کے دفاع کو اپنا شرعی حق سمجھتا ہے اور مناسب وقت پر اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔