LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز

گورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک ہوگا، محمود خان اچکزئی

Web Desk

7 December 2025

تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے ملک میں بڑھتے سیاسی تناؤ کے پیش نظر قومی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پشاور میں تحریک انصاف کے زیرِ اہتمام جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا گیا تو صوبے کا ہر چوک ڈی چوک بن جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں حق و باطل کی جنگ کا آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ “تحریک تحفظِ آئین پاکستان اور عمران خان وہ جمہوری قوتیں ہیں جن کی تحریک سے ان کے اوسان خطا ہو چکے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ آئین توڑنے والا ہی اصل سیکیورٹی رسک ہے اور جنگی جنونیت کو ختم کرنا ہوگا، کیونکہ جن قوموں نے جنگ چھوڑی وہی ترقی کر رہی ہیں۔

اچکزئی نے مزید کہا کہ افغانستان والے ہمارے بھائی ہیں اور دونوں ممالک ایک زنجیر کی مانند ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ججوں، جرنیلوں، علما اور سیاستدانوں پر مشتمل ایک قومی کانفرنس بلائی جائے جس میں سب ایک دوسرے کو معاف کر کے ملک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کریں۔ “ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں آئین و قانون کی بالادستی ہو اور عوام کی منتخب اسمبلیاں ریاست کی اصل نمائندہ ہوں۔”

جلسے سے علامہ ناصر عباس، سابق اسپیکر اسد قیصر، شاہد خٹک، مینا خان، تیمور سلیم جھگڑا، عاطف خان، مصطفی نواز کھوکھر، شیر علی ارباب اور معاونِ خصوصی شفیع جان نے بھی خطاب کیا۔