LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

پی آئی اے کی نجکاری کی بڑی پیش رفت، 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق

Web Desk

30 December 2025

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCoP) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے آئندہ لائحہ عمل پر اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں وزارتِ نجکاری کے سیکریٹری نے پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے اے ایچ سی کی قیادت میں کنسورشیم کی جانب سے دی گئی 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق کر دی، جو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت کے لیے منظور کی گئی ہے۔

کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری کابینہ کو بھیجنے کی سفارش بھی کر دی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نجکاری کا عمل بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے اپنے سنہرے دن دوبارہ حاصل کرے گی۔

اجلاس میں وزیر توانائی، وزیراعظم کے مشیران اور خصوصی معاونین کے علاوہ سیکریٹری کابینہ، دفاع، قانون، توانائی، صنعت و پیداوار اور نجکاری کمیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کابینہ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کو ملکی معیشت کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔