LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، 4 سالہ بچے سمیت 2 افراد شہید، 7 زخمی ترکیہ کے ساتھ جنگ کی کوششیں، اسرائیلی اخبار کی نیتن یاہو پر تنقید چین کے 2 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایرانی علاقے میں داخل ہو گئے ہتھیاروں کی فراہمی سے برطانیہ، فرانس بھی اسرائیلی جرائم میں شریک ہو رہے ہیں: ایران ایران کیخلاف امریکی جنگ کے اخراجات یومیہ 5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ایران آئندہ 50 برسوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے، جنرل ابن الرضا دفاعی صنعت جدید ہتھیاروں کے نظام اور فوجی سازوسامان تیار کر رہی ہے، ایرانی وزارت دفاع امریکا کا ایران پر نیا معاشی دباؤ فوجی محاذ پر ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے، پاسداران انقلاب ’’منجمد خارجہ پالیسی، منجمد معیشت کو جنم دیتی ہے‘‘، ایرانی سپیکر کا امریکی پالیسی پر طنزیہ وار صدر مملکت سے سعودی سفیر کی الوداعی ملاقات، عوامی محبت و تعاون پر اظہار تشکر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے

پی آئی اے کی نجکاری کی بڑی پیش رفت، 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق

Web Desk

30 December 2025

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (CCoP) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے آئندہ لائحہ عمل پر اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں وزارتِ نجکاری کے سیکریٹری نے پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کمیٹی نے اے ایچ سی کی قیادت میں کنسورشیم کی جانب سے دی گئی 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق کر دی، جو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت کے لیے منظور کی گئی ہے۔

کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری کابینہ کو بھیجنے کی سفارش بھی کر دی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نجکاری کا عمل بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے اپنے سنہرے دن دوبارہ حاصل کرے گی۔

اجلاس میں وزیر توانائی، وزیراعظم کے مشیران اور خصوصی معاونین کے علاوہ سیکریٹری کابینہ، دفاع، قانون، توانائی، صنعت و پیداوار اور نجکاری کمیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کابینہ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کو ملکی معیشت کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔