LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے کامیابی کے دعوے،مشترکہ اعلامیہ جلد متوقع ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا

مینڈک میں کینسر کو ختم کرنے والا حیرت انگیز علاج دریافت

Web Desk

28 December 2025

جاپان ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ٹری مینڈک کے آنتوں میں ایک ایسا منفرد بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو بغیر کسی مضر اثر کے کینسر کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مینڈک اور دیگر چھوٹے جانداروں سے حاصل کیے گئے 45 اقسام کے بیکٹیریا پر تجربات کیے، جن میں سے 9 بیکٹیریا نے کینسر کے خلاف مثبت نتائج دکھائے۔ ان میں ٹری مینڈک میں پایا جانے والا بیکٹیریا ایوِنگیلا امریکیانا سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق صرف ایک خوراک کے استعمال سے یہ بیکٹیریا تجرباتی چوہوں میں ٹیومر کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب رہا۔ حیران کن طور پر 30 دن بعد دوبارہ کینسر کے خلیات داخل کیے جانے کے باوجود بھی کوئی نیا ٹیومر پیدا نہیں ہوا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ بیکٹیریا دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔ ایک جانب یہ براہِ راست ٹیومر کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ دوسری جانب جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک کرتا ہے تاکہ جسم خود کینسر کے خلاف مؤثر انداز میں لڑ سکے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیکٹیریا کم آکسیجن والے ماحول میں بھی زندہ رہ سکتا ہے، جو کینسر کے ٹومرز میں عام ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ابتدائی تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ بیکٹیریا محفوظ ہے کیونکہ یہ جلد خون سے خارج ہو جاتا ہے اور صحت مند خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی امید ثابت ہو سکتی ہے، تاہم انسانوں پر اس کے استعمال سے قبل مزید تحقیق اور کلینیکل آزمائشیں ضروری ہیں۔ محققین اب یہ جانچنے میں مصروف ہیں کہ آیا یہ بیکٹیریا دیگر اقسام کے کینسر کے علاج میں بھی مؤثر ہو سکتا ہے یا نہیں، اور اسے موجودہ علاج کے طریقوں کے ساتھ کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔