LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے امریکی ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت

شہزاد اکبر پر گھر پر حملہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

Web Desk

25 December 2025

شہزاد اکبر نے بتایا ہے کہ کل صبح تقریباً 8:08 بجے، ایک نامعلوم شخص نے ان کے گھر پر حملہ کیا جو تعمیراتی یا کچرا اٹھانے کے لباس میں ملبوس تھا۔ حملہ آور نے پوچھا، “کیا آپ شہزاد اکبر ہیں؟” اور فوراً حملہ شروع کر دیا۔ واقعہ ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں پیش آیا۔

ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی اور انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ شہزاد اکبر کے چہرے پر زخم آئے، جس میں سوجن اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق ہوئی۔

پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اس ہدف بنا کر کیے گئے حملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جاری تحقیقات کے پیشِ نظر وہ سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ انگلینڈ ہر شخص کے لیے محفوظ جگہ رہے، بشمول ایسے افراد جو اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے انہیں خاموش نہیں کر سکتے اور وہ بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے زوال کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے زخمی ہونے کی کوئی تصویر گردش کر رہی ہے تو وہ جعلی اور مصنوعی (AI-generated) ہے۔