LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر نے ایران امریکا تنازع ختم کرانے کیلئے نیا سفارتی فارمولا پیش کر دیا پاکستان نے 23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا ایران کی زمینی تجارتی گزرگاہوں کی نگرانی کیلئے امریکی ٹاسک فورس آئرن گیٹ قائم امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری آبنائے ہرمز کے مشرق میں ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا: ایرانی بحریہ آزاد کشمیر کے سابق صدر راجہ ذوالقرنین انتقال کر گئے، ایک روزہ سوگ کا اعلان حکومت اپنے اقدامات سے خود نفرت پیدا کر رہی ہے، وفاداری کا معیار اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے: مولانا فضل الرحمٰن ضمنی انتخاب این اے 77: عطاء اللہ تارڑ کو ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری چینی سرمایہ کاروں کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات، سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات کو ترجیح دی گئی: ہارون اختر خان این اے 77 کا ضمنی انتخاب: چوہدری سالک حسین کا قاضی ابراہیم گجر کی حمایت کا اعلان پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کا شوہر سے خلع کیلئے فیملی کورٹ سے رجوع منڈی بہاؤالدین میں گرین ٹریکٹرز سکیم کے تحت 12 کسانوں کو چابیاں دے دی گئیں مولانا صاحب کو حصہ نہیں ملا، وہ ناراض ہیں: فیصل کریم کنڈی

حکومت اپنے اقدامات سے خود نفرت پیدا کر رہی ہے، وفاداری کا معیار اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے: مولانا فضل الرحمٰن

Web Desk

7 November 2026

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلبہ اور اساتذہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر کے تعلیم، طالب علم اور استاد کی قدر و منزلت کو مجروح کیا ہے، اور ایسے اقدامات سے حکمران خود اپنے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ ان کی 34 سالہ سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں اور وہ کبھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، لیکن اب ان کی کردار کشی کے لیے نوٹس اچھالے جا رہے ہیں اور احتساب کے اداروں کو انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں آج وفاداری کا معیار وطن سے محبت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے، جبکہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز، معدنی ذخائر پر مبینہ قبضے، فاٹا انضمام کے منفی نتائج اور صوبائی وسائل پر قبضے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی کسی دباؤ میں نہیں آئے گی اور اپنے مؤقف پر ڈٹی رہے گی۔