LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
نو منتخب امریکی مسلم سینیٹر نے ایران کیخلاف جنگ کو غلط فیصلہ قرار دے دیا حوثی ملیشیا جارحیت سے باز نہ آئی، سعودیہ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے روس یوکرین کے توانائی مراکز پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی پوپ لیو 12 روزہ دورے پر یوراگوئے پہنچ گئے روسی وفد کی امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ سے ملاقات خوش آئند ہے، کریملن سپین کے جزائر کینری میں تارکینِ وطن کی آمد میں ریکارڈ اضافہ شارجہ بک فیئر میں پاکستان پویلین کا افتتاح، سفیر شفقت علی خان کی شرکت پاکستان کی حوثی ملیشیا کے سعودیہ پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی کا اظہار ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی پاکستان، برطانیہ کا انسداد دہشتگردی، سائبر کرائم، امیگریشن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ابوظہبی میں امریکا اور یوکرین کیساتھ مذاکرات سے قبل پوتن کی سلامتی کونسل سے اہم مشاورت گادی آئزن کوٹ نئے وزیراعظم بننے کی پوزیشن میں آگئے، 67 ارکان کی حمایت حاصل علامہ اقبال کا یومِ پیدائش، روسی طلبہ کا اردو کلام اقبال پیش کر کے خراجِ عقیدت ڈیجیٹل تفریح کی دنیا میں اہم پیشرفت، رائل ریپچی 26 دسمبر کو دبئی سے متعارف ہوگا پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ سکولز کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: محکمہ سکولز کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز

Web Desk

7 November 2026

پنجاب حکومت نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور انتظامی بہتری کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کو 3 الگ الگ علاقائی محکموں میں تقسیم کرنے کی جامع تجویز تیار کر لی ہے۔

حکومتی دستاویزات کے مطابق، صوبے میں جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب کی بنیاد پر 3 خودمختار تعلیمی انتظامی ڈھانچے قائم کیے جائیں گے۔ اس نئی انتظامی تقسیم کے تحت پنجاب میں ایک صوبائی سیکرٹری کے بجائے تین علاقائی سیکرٹریز تعینات کیے جائیں گے، جن کے اپنے علیحدہ سیکرٹریٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشن (DPI) ہوں گے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت جنوبی پنجاب کا تعلیمی مرکز ملتان، وسطی پنجاب کا لاہور اور شمالی پنجاب کا تعلیمی مرکز راولپنڈی بنایا جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت پنجاب کی 9 ڈویژنز اور 41 اضلاع کو تین علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا؛ جس میں جنوبی پنجاب کی 3، وسطی پنجاب کی 4 اور شمالی پنجاب کی 2 ڈویژنز شامل ہوں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کی یہ علاقائی تقسیم مستقبل میں چھوٹے اور فعال انتظامی یونٹس کے قیام کے تناظر میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔