LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے: سلمان اکرم راجہ ہمارے کارکن پرامن ہیں، گولی نہیں چلنی چاہیے: بیرسٹر گوہر اسلام آباد ناکام ہو چکا تو تھر والوں کو موقع دیں، مزید صوبے حل نہیں: بلاول بھٹو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدالت کا بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم، فرخ حبیب و دیگر اشتہاری قرار گورنر راج اچھا فیصلہ نہیں، آخری حد پر نہیں جانا چاہتے: امیر مقام ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف این سی سی آئی اے کے خصوصی یونٹس قائم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز صدر اور وزیراعظم کا قوم کی تعمیر میں اساتذہ کے کردار کو خراج تحسین سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پاکستان آمد اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے: مریم نواز یمنی وزیر خارجہ کی حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے عالمی حمایت کی اپیل ماہ ستمبر میں جنوبی بلوچستان سے 435 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورۂ پاکستان، صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے

78 برسوں میں ملک کا نظام نہیں بدلا، صرف چہرے بدلتے رہے

Web Desk

21 December 2025

جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمن نے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 78 برسوں میں ملک کا نظام نہیں بدلا، صرف چہرے بدلتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین بلدیاتی حکومتوں اور اختیارات کی منتقلی کا حکم دیتا ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا، بیوروکریسی عوامی نمائندوں کے ماتحت ہونے کے بجائے انہیں اپنے ماتحت بنا چکی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے سوال اٹھایا کہ ایک ہی سی ایس ایس افسر معیشت، داخلہ، خارجہ اور قانون کا ماہر کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ جاگیردار، وڈیرے اور بیوروکریسی پورے نظام پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق 5 سے 16 سال کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر ملک میں 3 کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، صرف پنجاب میں یہ تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے، جس پر تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان ہونا چاہیے۔

انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر حکومت اچھی ہے تو تعلیم اور صحت کا بحران کیوں موجود ہے، سرکاری اسکولوں اور بیسک ہیلتھ یونٹس کو این جی اوز کے حوالے کیا جا رہا ہے جو ریاست کی آئینی ذمہ داریوں سے دستبرداری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتہارات اور چند منصوبے دکھا کر ترقی کا تاثر دیا جا رہا ہے، ہزاروں ارب کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ غریب پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جبکہ اشرافیہ محفوظ ہے، پیٹرول عالمی منڈی میں سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں لیوی بڑھانے کا اعلان کیا جا رہا ہے، ایف بی آر ناکام ہو چکا ہے اور بجلی، گیس، موبائل اور پیٹرول پر ٹیکسوں نے عوام کو نچوڑ دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کرپشن اور لوٹ مار کے نظام کا خاتمہ کیے بغیر ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔