وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: حتمی فیصلوں کو بار بار چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی
Web Desk
31 October 2026
وفاقی آئینی عدالت نے اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حتمی ہو جانے والے عدالتی فیصلوں کو بار بار چیلنج کرنا اور ایک ہی تنازع کو مختلف فورمز پر اٹھانا عدالتی عمل کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔ جسٹس روزی خان بریچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بھکر میں لڑکیوں کے سکول کی تعمیر کے لیے زمین کی ملکیت سے متعلق کیس میں انوری بی بی کے ورثاء کی درخواستِ اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ جسٹس سید ارشد حسین شاہ کے تحریر کردہ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جب کسی معاملے پر سپریم کورٹ اور کنسولیڈیشن حکام کا فیصلہ حتمی ہو جائے تو اسے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، سوائے فراڈ یا دائرہ اختیار کی سنگین غلطی کے۔ عدالت نے زور دیا کہ فیصلوں کو حتمی حیثیت دینا نظامِ انصاف، قانونی استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایران پر پابندیاں ختم ہونے سے پٹرول سستا ہونے کی امید ہے: رانا ثنا اللہ
31 October 2026
مولانا زیرک سیاستدان، اسمبلی میں بیان دے کر ان سے غلطی ہوئی: رانا تنویر حسین
31 October 2026
کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے 14 شہروں کے ماسٹر پلان پر کام جاری ہے: مراد علی شاہ
31 October 2026
امریکی فوج کا 2 ماہی گیر کشتیوں پر مبینہ حملہ، 4 افراد متاثر ہوئے: ایرانی میڈیا
31 October 2026
دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو جواب کے اختتام کا وقت ایران خود طے کرے گا: مجتبیٰ خامنہ ای
31 October 2026
پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے
31 October 2026
قطر کا پاکستانیوں کے لیے 30 دن کے مفت سیاحتی ویزے کا اعلان
31 October 2026
افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے دے رہی ہے: پاکستان
31 October 2026