LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان طالبان نے دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی: ترجمان پاک فوج ایران نے برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا نئی جنگ ہوئی تو تنازع مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوج کی وارننگ خیبرپختونخوا کے 47 فیصد سرکاری سکول غیر محفوظ قرار: رپورٹ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے جی 24 گروپ کا چیئرمین بن گیا، وزیراعظم کا اظہارِ مسرت ایرانی حملوں سے24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں: امریکی اخبار ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے 2 بحری جہازوں کی آمد مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بڑے مظاہرے گلگت بلتستان میں آج یومِ آزادی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے امریکا کا لہجہ تبدیل، ایران کی 7 شرائط ماننے پر آمادہ ہوگیا: محسن رضائی ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی کرنا باقی ہے: ٹرمپ غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعوؤں کا امتحان ہے: حافظ نعیم الرحمان اسرائیلی پارلیمنٹ میں سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے مطالبات زور پکڑنے لگے

امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی فوجی نیٹ ورک سرگرم، اربوں ڈالر کے سازو سامان کی درآمد

Web Desk

29 October 2026

امریکی اقتصادی پابندیوں اور سخت ترین بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران کا خفیہ فوجی نیٹ ورک بدستور انتہائی سرگرم ہے، اور ایک نئے سنسنی خیز انکشاف کے مطابق اس نیٹ ورک نے اربوں ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان درآمد کر لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ایران نے پانچ ہزار سے زائد خفیہ فوجی اداروں پر مشتمل ایک انتہائی وسیع اور پیچیدہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے جنوری 2025 سے لے کر جون 2026 کے دوران کم از کم 2 ارب ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان، دھماکا خیز مواد، میزائلوں اور ڈرونز کے پرزے، اور بھاری فوجی ٹرک کامیابی سے درآمد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خفیہ نیٹ ورک امریکی پابندیوں اور سمندری ناکہ بندی کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے زمینی، سمندری اور فضائی راستوں کے ذریعے ایران کو تمام اہم فوجی سامان مسلسل پہنچاتا رہا ہے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی وزارتِ دفاع سے براہِ راست منسلک یہ تمام ادارے بظاہر بالکل الگ الگ اور نجی ناموں سے کام کرتے ہیں، تاہم ان کے دفتری پتے تہران میں وزارتِ دفاع کے مرکزی پتے ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے متعدد شکوک و شبہات کے حامل اداروں کے براہِ راست روابط پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور ایران کے اہم میزائل و ڈرون پروگرام کے ساتھ بھی پائے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق، زیرِ جائزہ درآمدی لین دین کا 97 فیصد حصہ سرحد پار روایتی بینکنگ کے ذریعے منتقل کرنے کے بجائے بیرونِ ملک مقیم قابلِ اعتماد درمیانی افراد (مڈل مین) کے ذریعے خفیہ طور پر ادا کیا گیا۔ اس متبادل طریقہ کار کی بدولت ایرانی فوجی ادارے بین الاقوامی مالیاتی نگرانی، سسٹمز اور سخت پابندیوں کے دائرے سے بچنے میں مکمل طور پر کامیاب رہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ نیٹ ورک اس وقت ایران کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے جنگی ذخائر دوبارہ بھرنے اور اپنی دفاعی و پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم مدد فراہم کر رہا ہے۔