LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے: پاسدارانِ انقلاب حق سچ کی آواز اٹھانے والے صحافیوں پر ظلم و تشدد بند ہونا چاہیے: مریم نواز افغانستان سے بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، طالبان پوسٹیں چھوڑ کر فرار ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ امریکا جلد معاملہ نمٹا دے گا: ٹرمپ امریکی صدر اور نیتن یاہو کا رابطہ، ایران کیخلاف جنگ، فوجی کارروائیوں پر گفتگو صدر ٹرمپ کو دھچکا: الاسکا میں سینیٹ انتخابات کے نتائج روکنے کی درخواست مسترد امریکی عوام مہنگائی میں کمی، آمدن میں اضافے کے دعوؤں کے باوجود معاشی صورتحال سے ناخوش امریکی ریاستی انتخابات: ہیلی سٹیونز کا ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان تہران مذاکرات اور سفارتی معاملات میں اعلان کردہ 7 شرائط پر بدستور قائم ہے: عباس عراقچی یمنی فورسز کا حوثیوں کے دو ڈرون مار گرانے کا اعلان سعودیہ کی قطر کے مائع قدرتی گیس بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت اسرائیل نے حالیہ انتخابی نتائج کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات محض شکوک و شبہات قرار دیدیئے اسرائیل کی جنوبی لبنان کے پہاڑی اور وادیوں پر مشتمل علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر ماسکو میوزیم پر ممکنہ دہشتگرد حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا کم عمر شہری گرفتار بھارت میں راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا جمہوریت بچاؤ مارچ

اسرائیلی پارلیمنٹ میں سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب

Web Desk

1 November 2026

اسرائیل کی پارلیمنٹ (نیسٹ) میں ایک انوکھی اور نئی سیاسی مثال قائم ہو گئی ہے جہاں ایک سابق یہودی پولیس افسر باضابطہ طور پر ایک عرب اسلامی جماعت ’راعم‘ (Ra’am) کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہو گئے ہیں۔

اسرائیل میں سابق یہودی پولیس افسر یوآو سیگالووٹز (Yoav Segalovitz) نے روایتی یہودی اکثریتی جماعت کو خیرباد کہہ کر عرب قیادت والی اسلامی جماعت راعم میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں 8 نشستیں حاصل کی ہیں۔ وہ جلد ہی اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس انوکھے سیاسی قدم نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے۔ یوآو سیگالووٹز کا کہنا ہے کہ اس سیاسی اتحاد کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ یہودی اور عرب شہری مذہب، زبان اور نسل کے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ راعم کے رہنما منصور عباس عرب اور مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ وہ خود ایک یہودی اور سیکولر شخصیت ہیں، لیکن اس کے باوجود دونوں برابر کے اسرائیلی شہری ہیں اور ملک و قوم کی ترقی کے لیے انہیں مل کر کام کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد حصہ فلسطینی عرب شہریوں پر مشتمل ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے؛ انہیں ووٹ ڈالنے اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم عرب آبادی کے بیشتر علاقوں میں غربت، بڑھتے ہوئے جرائم اور سرکاری وسائل کی شدید کمی جیسے مسائل طویل عرصے سے چلے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب، راعم کے سربراہ منصور عباس نے بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی جماعت آئندہ بننے والی حکومت کا حصہ بننا چاہتی ہے تاکہ ریاست میں عرب اور یہودی شہریوں کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔