LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز میں پاکستان آنے والے ایل این جی جہاز ’ال مایدا‘ پر حملہ، جہاز کو نقصان لیکن عملہ محفوظ پاکستان کا امریکی وزیر خارجہ کے بیان کا خیرمقدم، دہشتگردوں کیخلاف اقدامات کا مطالبہ افغان طالبان نے دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی: ترجمان پاک فوج ایران نے برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا نئی جنگ ہوئی تو تنازع مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوج کی وارننگ خیبرپختونخوا کے 47 فیصد سرکاری سکول غیر محفوظ قرار: رپورٹ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے جی 24 گروپ کا چیئرمین بن گیا، وزیراعظم کا اظہارِ مسرت ایرانی حملوں سے24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں: امریکی اخبار ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے 2 بحری جہازوں کی آمد مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بڑے مظاہرے گلگت بلتستان میں آج یومِ آزادی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے امریکا کا لہجہ تبدیل، ایران کی 7 شرائط ماننے پر آمادہ ہوگیا: محسن رضائی ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی کرنا باقی ہے: ٹرمپ غزہ کی تباہی عالمی نظام کے اخلاقی دعوؤں کا امتحان ہے: حافظ نعیم الرحمان

افغان طالبان نے دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی: ترجمان پاک فوج

Web Desk

1 November 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند نہ کی تو انہیں اس کی سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا اسپانسر ہے جبکہ افغان طالبان رجیم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارتی پراکسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ افغانستان کی سر زمین پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی تائید شدہ القاعدہ، داعش اور دیگر کالعدم تنظیموں کی موجودگی ثابت ہے، جہاں نور ولی محسود اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دی گئی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان حکومت کو ایک نارمل ریاست کا رویہ اختیار کرنے اور منشیات کی پیداوار روکنے پر مجبور کرے، جبکہ مسلح افواج تمام فضائی و زمینی خطرات کا سدِباب کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔