LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم

اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا

Web Desk

29 October 2026

اسرائیل میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد سنگین سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے طویل اقتدار کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، تاہم اس انتخابی عمل کے نتیجے میں حکومت سازی کے لیے کوئی بھی واضح فاتح سامنے نہیں آ سکا ہے۔

ابتدائی تخمینوں اور رپورٹس کے مطابق حالیہ انتخابات میں وزیراعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت ‘لیکوڈ’ کو 120 رکنی پارلیمان (کُنیسٹ) میں 26 نشستیں، جبکہ ان کے پورے انتخابی اتحاد کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، اپوزیشن کو کُل ملا کر 67 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کے اتحادی بلاک کو 48 نشستیں ملنے کی توقع ہے، اور اگر وہ حکومت بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں عرب جماعتوں کی لازمی حمایت درکار ہوگی، جنہیں اس بار مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا امکان ہے؛ تاہم اپوزیشن کے اندر خود عرب جماعتوں کے ساتھ باضابطہ اتحاد کرنے یا نہ کرنے پر شدید سیاسی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ادھر نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین کو شدید خدشہ لاحق ہے کہ وہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا سہارا لینے یا ایران کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کا متنازعہ راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ انتخابی عمل مکمل ہونے اور حتمی نتائج کے اعلان کے بعد اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ حکومت سازی کے لیے کسی موزوں امیدوار کو نامزد کریں گے، جسے پارلیمان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے 28 دن کا وقت ملے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر 14 دن کی مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر گادی آئزن کوٹ یا اپوزیشن کا کوئی اور رہنما حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو نیتن یاہو عبوری وزیراعظم کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں، بصورت دیگر ملک میں ایک بار پھر نئے انتخابات کی نوبت آ سکتی ہے۔