LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا جنوبی مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3زخمی ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا وزیراعلیٰ بلوچستان نے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کا یونان کا سرکاری دورہ مکمل امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، کم از کم فیس 145 درہم مقرر اسحاق ڈار سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی ترک صدر اردوان سے ملاقات روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ، 270 روسی فوجی ماسکو پہنچ گئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق لگائی گئی: گورنر سندھ ماسکو میں ڈرون حملوں کا خطرہ، فضائی آپریشن کئی بار متاثر ہونے کے بعد دوبارہ بحال

اسحاق ڈار سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی ترک صدر اردوان سے ملاقات

Web Desk

23 October 2026

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے آر فور (R4) اور آر فور پلس ای تھری (R4+E3) اجلاسوں کے بعد دیگر وزرائے خارجہ کے ہمراہ استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی امور سمیت باہمی دلچسپی کے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق، اسحاق ڈار نے ترک صدر کو صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کانفرنسز کی شاندار میزبانی پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ نائب وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے تمام وزرائے خارجہ کی آمد کا خیرمقدم کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے منعقدہ ان اجلاسوں اور سفارتی مشاورت کے نتائج کو سراہا۔