LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلوں کی پالیسی جاری پاکستان اورعمان کے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات، سی پیک ٹو کے تحت سرمایہ کاری، تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق دہشت گردی کا خطرہ صرف خیبر پختونخوا نہیں، پورے پاکستان کو ہے: رانا ثناء اللہ وزیراعظم سے روسی وزیر داخلہ کی ملاقات، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق حوثی چینی پرزوں کی مدد سے جدید بیلسٹک میزائل بنا رہے ہیں: امریکی اخبار کا انکشاف نیتن یاہو کی ایران پر پیشگی حملے کی تردید، حملے کی صورت میں بھرپور جواب کی دھمکی ریاض میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے شہری زخمی، گھر اور گاڑی کو نقصان عباس احسن ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس 12 اضلاع میں تعینات، نوٹیفکیشن جاری بھارت میں مسلم بستی کی پانی کی سپلائی بند، معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا لبنانی صدر اور ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، سفارت کاری پر زور امریکی کسان نے 1431 کلو وزنی دیوہیکل کدو اگا لیا، عالمی ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان آبنائے ہرمز میں مزید 2 تجارتی جہاز نامعلوم پروجیکٹائلز کا نشانہ بن گئے خواتین کو بااختیار بنانا معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے: یوسف رضا گیلانی

کولمبیا نے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ کھول دیا، فلسطینی اتھارٹی کی مذمت

Web Desk

14 October 2026

کولمبیا نے بدھ کے روز مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں اسرائیل کے لیے باضابطہ طور پر اپنا سفارت خانہ قائم کر دیا ہے، جس پر فلسطینی اتھارٹی نے شدید برہم ہوتے ہوئے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اس قدم کے ساتھ ہی کولمبیا ان معدودے چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے وہاں اپنے سفارتی مشن منتقل کیے ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک اپنے سفارت خانے تل ابیب میں برقرار رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ دو ریاستی حل اور مساوی مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گدعون صاعر (Gideon Sa’ar) نے سفارت خانے کی تقریبِ کشادگی کے موقع پر مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوئے اس دن کو اسرائیل کے لیے تاریخی قرار دیا۔

یہ فیصلہ کولمبیا کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نئ صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا (Abelardo De La Espriella) کی جانب سے جولائی میں کیے گئے اعلان کے تحت سامنے آیا ہے۔ یہ قدم سابق صدر گستاوو پیٹرو (Gustavo Petro) کی خارجہ پالیسی سے یکسر متضاد ہے، جنہوں نے 2024 میں غزہ پر اسرائیلی عسکری جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے احتجاج کے طور پر اسرائیل سے تمام تر سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ دوسری جانب فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق پر حملہ اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔