اے آئی اور جوہری تنازع 2100 میں انسانیت کی بقا کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں، رپورٹ میں انتباہ
Web Desk
12 October 2026
معتبر طبی جریدے ‘دی لانسیٹ’ (The Lancet) میں شائع ہونے والی ایک تشویشناک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور جوہری تنازعات سنہ 2100 تک انسانیت کی بقا اور دنیا بھر کی آبادی کے لیے سب سے بڑے اور تباہ کن خطرات ثابت ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے 204 ممالک اور خطوں میں سیکڑوں ممکنہ خطرات کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد مرتب کی جانے والی اس رپورٹ میں کل 17 ایسے ہولناک خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسانی تہذیب کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان تباہ کن خطرات کا تعلق بنیادی طور پر مہلک امراض، بگڑتے ہوئے سماجی اور معاشی حالات، تیزی سے بدلتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں، خطرناک ٹیکنالوجیز اور بین الاقوامی تنازعات سے ہے۔ انسانیت کو درپیش دو سب سے بڑے وجودی خطرات کے علاوہ، اس تحقیق میں انسانی صحت کو تباہ کرنے والے مزید 15 سنگین خطرات کی بھی نشان دہی کی گئی ہے جن میں فضائی آلودگی، گلوبل وارمنگ، الکحل کا excessive استعمال، قدرتی متعدی وبائیں، موٹاپا، تمباکو نوشی اور بگڑتی ہوئی ذہنی صحت (Mental Health) سر فہرست ہیں۔
محققین نے عالمی رہنماؤں کو شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت کی بقا اور صحت کو لاحق یہ سنگین ترین خطرات آپس میں گہرے جڑے ہوئے ہیں، اور صحت، معاشیات، موسم، دفاع اور سکیورٹی سے متعلق آج کیے جانے والے فیصلے ہی یہ طے کریں گے کہ آنے والی نسلوں کی صحت اور معیارِ زندگی کیسا ہوگا۔ ماہرین نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات خطرات کا بڑا پیمانہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسانیت اور عالمی قیادت نے اب تک اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔
رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ہر خطرے کی وجہ سے اچھی صحت کے کتنے ہی سال امراض، معذوری یا قبل از وقت اموات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ محققین کا زور ہے کہ طبی نظاموں کو جدید بنانے اور ٹیکنالوجیکل تنوع میں سرمایہ کاری کو فوری طور پر بڑھایا جائے، کیونکہ یہ خطرات مستقبل میں ناگزیر نہیں ہیں اور اگر بروقت دانشمندانہ اقدامات کیے جائیں تو ان کی مکمل روک تھام ممکن ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج
8 November 2026
شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت
8 November 2026
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن
8 November 2026
پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار
8 November 2026
پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف
8 November 2026
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد
8 November 2026