LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بیرسٹر گوہر کا حکومت سے غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ پاکستان اور جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثناء ایم ٹی آنر 25 کے مزید 3 پاکستانی کریو ارکان بھی وطن واپس روانہ سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا

مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثناء

Web Desk

7 October 2026

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی ناجائز مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد ایجنڈا ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر عام کرنا رہا ہے، اور 2014 کے دھرنے سے لے کر اب تک وہ اسی تسلسل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ کے پی حکومت کے رویے پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صوبائی وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جہاں ایک طرف شہداء کی لاشیں پڑی تھیں اور دوسری طرف صوبائی حکومت ڈھول بجا رہی تھی، جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف جاری رہیں گی اور کوئی نیا آئی ڈی پیز بحران نہیں بن رہا، جبکہ افغان رجیم کو بھی باور کرا دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔