LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی: KSE-100 انڈیکس 1138 پوائنٹس گر گیا سرحد پار سے آنے والی آلودہ ہوا سموگ کا سبب، یکطرفہ نہیں علاقائی اپروچ کی ضرورت ہے: مریم اورنگزیب ملک میں سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے: فی تولہ سونا 4 لاکھ 35 ہزار روپے کی سطح سے تجاوز کر گیا حکومت نے اچانک مذاکراتی میز پر دہشت گردی کا ایجنڈا رکھا، ایمرجنسی اور گورنر راج کی باتیں کی گئیں: راجہ ناصر عباس خیبرپختونخوا کو حکومت کی نااہلی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے: بلال اظہر کیانی آئی ایم ایف کا وسیع پیمانے پر فیول سبسڈی سکیم فوری ختم کرنے کا مطالبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکمرانی، کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے: امیر مقام کراچی بندر گاہ سے یورپ کیلئے براہ راست شپنگ سروس بحال وزیرِ اعظم کی ڈیجیٹل نیشن پاکستان پروگرام پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کے پی کا بُرا حال، پی ٹی آئی عمران خان کے بیانیہ میں مصروف ہے: علی شاہ باچا لانگ مارچ کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، سہیل آفریدی سے جواب طلب منشیات و اسلحہ برآمدگی کیس، عدالت کا انمول عرف پنکی کو پیش کرنے کا حکم پاک فوج کا اہم اقدام، استور سے سکردو تک 66 کلومیٹر روڈ ٹریک مکمل چھوٹی و درمیانی صنعتوں کیلئے طویل المدتی قرض کی شرح سالانہ 2 فیصد کرنے کا مطالبہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے 160 فیصد زائد قیدی، 75 فیصد زیرِ سماعت

اپوزیشن جماعتوں کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ

Web Desk

7 October 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی تجویز پر آپس میں اور اپنی جماعتوں میں تفصیلی مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوری اور سیاسی قوتیں ہمیشہ مذاکرات اور گفتگو پر یقین رکھتی ہیں، تاہم حکومت کے موجودہ منفی رویے کے باعث باہمی بات چیت کی گنجائش مسلسل کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ سیاسی مذاکرات کسی بھی پسِ پردہ قوتوں کی مداخلت کے بغیر اور ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی بنیاد پر ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے پی سی منعقد ہوتی ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے ایک مشترکہ قومی ایجنڈا اور لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی عدم توازن کا خاتمہ ہو سکے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے تاکید کی کہ آئین اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج اور لانگ مارچ ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد آنے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ پریس کانفرنس کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ملک کی بگڑتی معاشی و سیکیورٹی صورتحال کے حل کے لیے تمام سیاست دانوں کا مل بیٹھنا وقت کی ضرورت ہے۔