LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کے پی کا بُرا حال، پی ٹی آئی عمران خان کے بیانیہ میں مصروف ہے: علی شاہ باچا لانگ مارچ کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، سہیل آفریدی سے جواب طلب منشیات و اسلحہ برآمدگی کیس، عدالت کا انمول عرف پنکی کو پیش کرنے کا حکم پاک فوج کا اہم اقدام، استور سے سکردو تک 66 کلومیٹر روڈ ٹریک مکمل چھوٹی و درمیانی صنعتوں کیلئے طویل المدتی قرض کی شرح سالانہ 2 فیصد کرنے کا مطالبہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے 160 فیصد زائد قیدی، 75 فیصد زیرِ سماعت وزیرِخارجہ سے بحرینی ہم منصب کی ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پاکستان، برطانیہ کا آئندہ ٹریڈ ڈائیلاگ میں عملی نتائج کے حصول پر اتفاق خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری، مزید 142 کیسز رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورہ مکمل، عالمی امن کیلئے پاکستانی کردار کی تحسین کرک: مسلح افراد کی فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت 2 اہلکار شہید افغانستان میں اس وقت 25 دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں: محسن نقوی سندھ ہائیکورٹ آئینی بنچز کی مدت میں توسیع کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب 8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین کا دکھ آج بھی محسوس ہوتا ہے: مریم نواز

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے 160 فیصد زائد قیدی، 75 فیصد زیرِ سماعت

Web Desk

8 October 2026

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے ملک بھر کی جیلوں سے متعلق اپنی سالانہ پریزن ڈیٹا رپورٹ جاری کر دی ہے، جس نے قومی عدالتی و اصلاحاتی نظام کی سنگین صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت مجموعی طور پر 1 لاکھ 10 ہزار 515 قیدی بند ہیں، جبکہ تمام جیلوں میں صرف 68 ہزار 832 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس طرح ملک کی جیلیں اپنی گنجائش سے 160.6 فیصد زیادہ قیدیوں کے ساتھ چل رہی ہیں۔ صوبائی سطح پر سندھ کی جیلیں اپنی گنجائش سے 193 فیصد اور پنجاب کی جیلیں 176.5 فیصد زیادہ بوجھ برداشت کر رہی ہیں، جبکہ 2019ء کے مقابلے میں قیدیوں کی مجموعی تعداد میں 50.1 فیصد کا ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مجموعی قیدیوں میں سے 82 ہزار 988 افراد (75 فیصد سے زائد) ‘زیرِ سماعت’ (Under-trial) ہیں، جن کی تعداد ہی تمام جیلوں کی اصل گنجائش سے 14 ہزار 156 زیادہ ہے۔ ضمانتوں میں تاخیر اور مقدمات کی سست رفتاری کو اس اضافے کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انسدادِ منشیات کے سخت قوانین بھی جیلوں پر بوجھ بڑھانے کا اہم سبب بنے ہیں، جہاں انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت 28 ہزار سے زائد افراد قید ہیں اور 2023ء کے بعد ان قیدیوں میں 43.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ یہ بحران صرف گنجائش کی کمی کا نہیں بلکہ نظامِ انصاف، گرفتاریوں کے طریقہ کار اور عدالتی عمل سے جڑا ہوا ہے