سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ
Web Desk
26 September 2026
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پہلے ہی انتظامی طور پر فارغ ہو چکے تھے، اور اب وہ سیاسی طور پر بھی مکمل طور پر فارغ ہو چکے ہیں۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیر اطلاعات نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) سے دیے گئے تاریخی خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے عالمی فورم پر فلسطینی عوام کے حق میں انتہائی دوٹوک مؤقف اپنایا اور اسرائیلی مظالم کی بھرپور مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واشگاف الفاظ میں پوری امت مسلمہ کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا جس پر فلسطینی نمائندوں سمیت عالمی سطح پر ان کے خطاب کی زبردست پذیرائی کی گئی۔ عطا تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم کے فلسطینی عوام کے لیے جذبات صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے فلسطین کے لیے بھجوایا جانے والا امدادی سامان اور فلسطینی طلبہ کی پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں تعلیم اس کی عملی مثال ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے یو این جی اے میں اسلاموفوبیا کے خلاف بھی توانا آواز بلند کی۔
ملکی دفاعی امور پر بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ اور جرات مندانہ عسکری قیادت میں دشمن ملک بھارت کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو مؤخر کیے جانے کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا دہشت گردوں کے ساتھ اندرونی گٹھ جوڑ ہے اور دہشت گردی کے معاملے پر ان کی پالیسی انتہائی بزدلانہ رہی ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمت ہے تو آجاؤ‘‘ کہنے پر خیبرپختونخوا حکومت کو آگ لگ گئی ہے، اب چاہے وہ پانچ اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دیں، حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری ہی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی طور پر پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اور ’’کھودا پہاڑ، نکلا چوہا‘‘ کے مصداق سہیل آفریدی نے اپنے کارکنوں کو شدید مایوسی سے دوچار کیا ہے۔
دوسری جانب، پریس کانفرنس کے دوران یا اس سے متعلقہ حکومتی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے لیگی رہنما اختیار ولی خان نے بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سہیل آفریدی نے آخر کار بھاگنا ہی تھا تو وہ اتنے بڑے بڑے جھوٹ کیوں بولتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی پہلے دعویٰ کرتے تھے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کی ہدایت نہیں ملے گی، مارچ ملتوی نہیں ہوگا، لیکن اب وہ اپنے ہی کارکنوں سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کو احتجاج کے نام نہاد ’’چیمپیئن‘‘ کے طور پر سامنے لایا گیا تھا، مگر لانگ مارچ کی تاریخ بدلنے کا ان کا سارا اعلان صرف ایک میڈیا اسٹنٹ کے سوا کچھ نہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق لانگ مارچ اب 27 ستمبر کے بجائے 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا، اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلے کا اختیار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہی دیا گیا تھا۔
متعلقہ عنوانات
این اے 168 بہاولپور ضمنی انتخاب، پاک فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی درخواست
26 September 2026
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی
26 September 2026
پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب
26 September 2026
بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ
26 September 2026
بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے
26 September 2026
بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید
26 September 2026
مسافروں کو نامناسب سہولیات اور سامان کی ترسیل میں تاخیر، پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا پی آئی اے پر ایک کروڑ سے زائد کا جرمانہ
26 September 2026
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا
26 September 2026