LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشت گرد ہلاک کے پی پولیس ایکٹ پر تحفظات، یہ قانون سازی آئین کی خلاف ورزی ہے: طلال چودھری ڈاکٹر نجیب نقی آزاد جموں و کشمیر کے 23 ویں صدر منتخب ایران کو تباہ کرنے سے متعلق امریکی صدر کے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں: ایرانی صدر اسلام آباد میں غیر ملکی باشندے کے گھر مسلح ڈکیتی، مقدمہ درج کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: سی ٹی ڈی نے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا افغانستان میں ڈرون ذخیرہ اور لانچ کرنے والے 10 مقامات کو نشانہ بنایا: عطا تارڑ پاکستان کی منیشہ علی کی شاندار فتح، انگولا کی فائٹر کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا سنگاپور میں بس مسافروں کو شور مچانے، گندگی پھیلانے پر 500 ڈالر تک جرمانہ عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظربندی معطل کرنے کی استدعا مسترد وزیر خزانہ کی اہم ملاقاتیں، ڈیجیٹائزیشن، پی آئی اے اور ریکوڈک پر مشاورت لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہ ایرانی وزارت خارجہ کا کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے بیان پر سخت ردعمل افغان سرزمین سے ڈرون حملے ناقابلِ قبول، دفاع ہمارا حق، فوری جواب دیا جائے گا: عطا تارڑ وزیراعظم کی امریکا میں اہم ملاقاتیں، نوجوانوں کو ملکی بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کی دعوت

افغان سرزمین سے ڈرون حملے ناقابلِ قبول، دفاع ہمارا حق، فوری جواب دیا جائے گا: عطا تارڑ

Web Desk

24 September 2026

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایک اہم بیان میں 23 ستمبر 2026 کو افغان سرزمین سے پاکستان کی فضائی حدود میں کی جانے والی ڈرونز کی دانستہ اور غیر قانونی دراندازی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ریاست ایسی کسی بھی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے افغان طالبان حکومت اور متعلقہ فریقوں کو مسلسل آگاہ کرتا رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کا خاتمہ کریں۔ تاہم، قابلِ تصدیق اقدامات کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف دشمنانہ ڈرون کارروائیوں کا راستہ اختیار کر کے صورتحال کو مزید کشیدہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے جدید فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام درانداز ڈرونز کو ٹریک کیا اور انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں ناکارہ بنا دیا۔

اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے افغانستان کے اندر موجود ان 10 مخصوص مقامات کو فضائی اور ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جہاں سے یہ ڈرونز لانچ کیے جاتے تھے اور جنہیں ان کی اسٹوریج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ یہ جوابی کارروائیاں انتہائی نپّی تلی، درست اور صرف انہی فوجی اہداف تک محدود تھیں جو پاکستان کے خلاف حملوں میں براہِ راست ملوث تھے۔ پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام دشمنانہ سرگرمیاں بند کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، بصورت دیگر خودمختاری کی ہر خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔