LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا، ڈنمارک اسرائیلی فوج کی غزہ اور جنوبی لبنان میں بمباری، غزہ میں 3 افراد شہید ایران کی ستمبر میں تیل کی فروخت 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت واشنگٹن کا کرم نہیں ہمارا قانونی حق ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کے راستے تجارت کا حجم 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر آنے کا دعویٰ 3 امریکی نیوز اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا

3 امریکی نیوز اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا

Web Desk

20 September 2026

امریکی صدارتی محل ‘وائٹ ہاؤس’ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ پابندی کے بعد معروف امریکی خبری اداروں سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS NOW) اور پولیٹیکو (Politico) کے صحافیوں کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ روک دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تینوں ذرائع ابلاغ نے الگ الگ بیانات میں تصدیق کی ہے کہ جیسے ہی ان کے نمائندے پریس کوریج کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے تو سیکیورٹی حکام نے ان کے آفیشل پریس پاسز منسوخ کر کے ضبط کر لیے۔

تینوں بڑے خبری اداروں نے اس حکومتی اقدام کے خلاف امریکی آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) کے تحت حاصل آزادیٔ اظہارِ رائے اور آزاد صحافت کے بنیادی حقوق کی پاسداری کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ سی این این نے اپنے بیان میں کہا کہ پریس پاسز کی ضبطی صحافت کے غیر جانبدارانہ کام میں غیر قانونی حکومتی مداخلت کے مترادف ہے، جبکہ ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے بھی اپنے آئینی حقوق کا ہر فورم پر دفاع کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تینوں معتبر اداروں پر ‘جعلی خبریں’ (Fake News) نشر کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔