LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی: وزیر خزانہ کا دعویٰ پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارت منہدم، 21 فلسطینی جاں بحق سعودی عرب کی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی ایرانی وزارت خارجہ کی جرمن چانسلر پر تنقید، ایران کے خلاف بیانیہ مسترد امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں، قومی مفادات مقدم ہیں: جے ڈی وینس ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت

گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل

Web Desk

16 September 2026

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس سے قبل عالمی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین سمیت دنیا بھر کے مختلف تنازعات کے فوری اور پائیدار حل پر زور دیا ہے۔ انتونیو گوتریس نے خصوصاً یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ خطے میں پائیدار امن کی بحالی دونوں فریقین کے مابین براہِ راست بات چیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

یوکرین کی تشویشناک صورتحال پر بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جنگ بندی کے فوری قیام اور ایک منصفانہ امن کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے روس اور یوکرین کے عام شہریوں کو درپیش مسلسل شدید مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور بحیرہ اسود (Black Sea) کی ناکہ بندی سے پیدا ہونے والے سنگین عالمی اور معاشی مسائل کو فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

فلسطین کے حوالے سے انتونیو گوتریس نے انتہائی واضح اور سخت موقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور وہاں اسرائیلی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیاں اب ناقابلِ برداشت ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ غزہ کے معاملے پر اسرائیل بین الاقوامی امن منصوبے پر عملدرآمد قبول کرنے سے مسلسل انکاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے متنبہ کیا کہ فلسطینی بحران کے منصفانہ حل کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔