LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی: وزیر خزانہ کا دعویٰ پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارت منہدم، 21 فلسطینی جاں بحق سعودی عرب کی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی ایرانی وزارت خارجہ کی جرمن چانسلر پر تنقید، ایران کے خلاف بیانیہ مسترد امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں، قومی مفادات مقدم ہیں: جے ڈی وینس ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت

پبلک چارج قانون میں توسیع پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع: نیویارک سٹی کی قیادت میں امریکی شہروں کا مقدمہ دائر

Web Desk

14 September 2026

نیویارک سٹی نے امریکا کے متعدد دیگر بڑے شہروں کے ساتھ مل کر ٹرمپ انتظامیہ کے گرین کارڈ کے حوالے سے نئے ‘پبلک چارج’ قانون کے خلاف مینہیٹن کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے اعلان کیا کہ شکاگو، سان فرانسسکو، سیئٹل اور واشنگٹن ڈی سی سمیت دیگر مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر 108 صفحات پر مشتمل درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں 18 ستمبر سے نافذ ہونے والے اس نئے قانون اور یو ایس سی آئی ایس (USCIS) کی نئی گائیڈ لائنز کو غیر قانونی قرار دے کر فوری طور پر منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

نئے وفاقی قواعد و ضوابط کے تحت، امریکی امیگریشن حکام کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ گرین کارڈ کی درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا درخواست دہندہ نے میڈیکل، ہاؤسنگ، فوڈ سٹیمپ (راشن)، ڈگریز کے لیے تعلیمی مالی امداد یا کسی بھی قسم کی سرکاری مراعات کا استعمال کیا ہے یا نہیں۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد تارکینِ وطن کو خود کفیل بنانا اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر ان کا انحصار کم کرنا ہے، تاہم نیویارک سٹی کے کارپوریشن کونسل سٹیو بینکس اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے واضح کیا کہ انتظامیہ کانگریس کے طے کردہ دائرہ اختیار سے تجاوز کر رہی ہے۔

میئر زوہران ممدانی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے نیویارک کی تقریباً 38 فیصد یعنی 31 لاکھ سے زائد غیر ملکی آبادی شدید متاثر ہوگی اور قانونی حق رکھنے کے باوجود خوف کے باعث لوگ صحت و خوراک کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔ مدعی شہروں نے ایڈمنسٹریٹو پروسیجر ایکٹ (APA) کے تحت عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے قانون کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ نوٹس اور عوامی ردعمل کے طے شدہ آئینی و قانونی طریقہ کار کو بھی یکسر نظر انداز کیا ہے، جس سے لاکھوں خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔