LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی: وزیر خزانہ کا دعویٰ پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارت منہدم، 21 فلسطینی جاں بحق سعودی عرب کی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی ایرانی وزارت خارجہ کی جرمن چانسلر پر تنقید، ایران کے خلاف بیانیہ مسترد امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں، قومی مفادات مقدم ہیں: جے ڈی وینس ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت

ملک میں فاشزم اور معاشی بحران عروج پر، 27 ستمبر کو عوام کے حقوق اور آئین کی بحالی کے لیے نکلیں گے: راجہ ناصر عباس

Web Desk

14 September 2026

قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، مگر اس کا سیاسی دم گھونٹا جا رہا ہے اور پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں جاری فاشزم اور مظاہرین پر تشدد کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حاکمانِ وقت پرامن احتجاج کرنے والوں کے سروں پر گولیاں مار رہے ہیں، حالانکہ جن معاشروں میں احتجاج کرنے کا حق ختم ہو جائے وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔

راجہ ناصر عباس نے خبردار کیا کہ پاکستان شدید معاشی، سیاسی اور امن و امان کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور ملک اقتصادی دیوالیہ پن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ نظام میں اصولوں کے بجائے صرف جی حضوری کو معیار بنا لیا گیا ہے، جہاں بڑا سے بڑا مجرم بھی حکومت کا ساتھ دینے پر بے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ صوبائی بنیادوں پر نفرتیں پھیلانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے ملک کی فیڈریشن اور سالمیت کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں، کیونکہ طاقت کے استعمال سے نظام نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمان مکمل طور پر معذور اور غیر متعلق ہو چکی ہے، جبکہ عدالتوں سے بھی طالع آزماؤں کے حق میں اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف فیصلے لیے جا رہے ہیں جن سے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے اعلان کیا کہ تمام تر قومی مسائل، آئین کی حکمرانی اور رول آف لا کے قیام کے لیے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کی کامل حمایت کی جائے گی اور عوام اپنے حقوق کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے کیونکہ ملک کو صرف اور صرف آئین و قانون کی بالادستی کے ذریعے ہی بچایا جا سکتا ہے۔