LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے جنگ شروع نہیں کی، امریکی و اسرائیلی جارحیت کیخلاف دفاع پر مجبور ہوا، صدر مسعود پزشکیان ایران کے علاقے سیرک میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، ایرانی میڈیا سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں مالی سال کا دوسرا اجلاس آج ہوگا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے آج عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا زیلنسکی کا توانائی تنصیبات پر جوابی حملوں کا بیان کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے، کریملن ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: فیصل بن فرحان پنجاب میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان مصطفیٰ کمال جس دن مناظرے کا کہیں، میں تیار ہوں: مرتضیٰ وہاب عمان مذاکرات کا کسی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی: عراقچی حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلیے دوسرا خط نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر

نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین

Web Desk

13 September 2026

پاکستان مسلم لیگ (قاف) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے زور دیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی مشاورت اور باہمی اتفاقِ رائے سے حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان مسلم لیگ سندھ کے صدر آصف جمال اور جنرل سیکرٹری آفاق خٹک سے ملاقات کے دوران کہی۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ کسی سیاسی مفاد یا وقتی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً قومی مفاد اور عوام کی سہولت کو مدِنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی ترقی اور عوام کی محرومیوں کے خاتمے میں ان کی جماعت کا تاریخی کردار رہا ہے۔ بہتر طرزِ حکمرانی، بنیادی سہولیات اور فوری انصاف کی فراہمی ریاست کی اولیں ذمہ داری ہے۔ مسلم لیگ کے صدر نے واضح کیا کہ مؤثر، بااختیار اور مضبوط انتظامی یونٹس بھی موجودہ مسائل کا بہترین حل ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی انا اور صف بندیوں کو چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، کیونکہ مضبوط صوبے اور بااختیار ادارے ہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہیں۔